Urdu Conclave 2026

Anil Ambani Case: چالیس ہزار کروڑ روپے کا گھپلا: بمبئی ہائی کورٹ نے انل امبانی کی ریلیف واپس لی، اب اسے فراڈ قرار دے سکیں گے بینک

انل امبانی کو انل امبانی کو بمبئی ہائی کورٹ سے بڑا جھٹکا لگا ہے۔ عدالت نے فراڈ کی کارروائی پر عائد عارضی پابندی ختم کر دی ہے۔ 40,000 کروڑ روپے کے معاملے میں اب بینک انہیں فراڈ قرار دے سکیں گے۔

بمبئی ہائی کورٹ نے صنعتکار انل امبانی کو بڑا جھٹکا دیا ہے۔ عدالت نے دسمبر 2025 میں دی گئی عبوری ریلیف کو منسوخ کر دیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد بینک اب انل امبانی اور ان کی کمپنی ریلائنس کمیونیکیشنز کے اکاؤنٹس کو فراڈ قرار دینے کی کارروائی آگے بڑھا سکیں گے۔ یہ فیصلہ چیف جسٹس شری چندراشیکھر اور جسٹس گوتم انکھڑ کی ڈویژن بینچ نے سنایا۔

بینکوں کی اپیل منظور

بینک آف بڑودا، انڈین اوورسیز بینک اور آئی ڈی بی آئی بینک نے جنوری 2026 میں سنگل بینچ کے اسٹے آرڈر کو چیلنج کیا تھا۔ بینکوں کا کہنا تھا کہ فارنسک آڈٹ میں بے ضابطگیاں پائی گئی ہیں اور وہ ریزرو بینک آف انڈیا کے قواعد کے تحت کارروائی کرنا چاہتے ہیں۔ عدالت نے سنگل بینچ کے آرڈر کو غیر قانونی اور غلط قرار دیا اور انل امبانی کی چار ہفتے کی اضافی مہلت کی درخواست بھی مسترد کر دی۔

40,000 کروڑ روپےکے فراڈ کا الزام

یہ کیس 40,000 کروڑ  روپے کے مبینہ بینک لون فراڈ سے متعلق ہے۔ اسٹیٹ بینک آف انڈیا نے آڈٹ رپورٹ کی بنیاد پر اکاؤنٹس کو فراڈ کی کیٹیگری میں رکھا تھا۔ انل امبانی نے اس فیصلے کو چیلنج کیا اور کہا کہ بینکوں نے سپریم کورٹ آف انڈیا کے اصولوں کی پیروی نہیں کی۔ تاہم اب ہائی کورٹ کے فیصلے سے بینکوں کو کارروائی آگے بڑھانے کی چھوٹ مل گئی ہے۔

گزشتہ ہفتے انل امبانی نے سپریم کورٹ کو بتایا تھا کہ وہ بغیر اجازت ملک نہیں چھوڑیں گے اور ED اور CBI کی تحقیقات میں مکمل تعاون کریں گے۔ سپریم کورٹ نے اس ماہ ED کو ہدایت دی تھی کہ وہ ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم (SIT) قائم کرے تاکہ تفتیش کو تیز کیا جا سکے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read