گوہاٹی (آسام): مرکزی وزیرداخلہ امت شاہ نے کہا ہے کہ سی آر پی ایف کی تاریخ میں پہلی بار 87ویں یوم تاسیس پریڈ کا آسام میں انعقاد پورے شمال مشرق کے لیے باعث فخر ہے۔ گوہاٹی میں پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سی آر پی ایف کی 86 سالہ تاریخ میں پہلی مرتبہ ریزنگ ڈے پریڈ شمال مشرقی خطے میں منعقد کی جا رہی ہے، جو سب کے لیے فخر کی بات ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ 2019 میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ سالانہ پریڈ ملک کے مختلف حصوں میں منعقد کی جائے گی اور انہیں خوشی ہے کہ یہ شاندار پریڈ اب شمال مشرق تک پہنچی ہے۔
وائبرنٹ ولیج پروگرام 2.0 کا آغاز
اس سے قبل جمعہ کے روز امت شاہ نے آسام کے ضلع کاچھار کے کٹی گارا علاقے میں، ہند-بنگلہ دیش سرحد کے قریب ناتن پور میں وائبرنٹ ولیج پروگرام 2.0 کا آغاز کیا۔ انہوں نے اس موقع پر کہا کہ وزیرِاعظم نریندر مودی نے سرحدی علاقوں کی ترقی کے لیے کئی اقدامات کیے ہیں۔ ان کے مطابق یہ پروگرام ملک کی 17 ریاستوں کے 334 بلاکس اور تقریباً 1,954 دیہات میں نافذ کیا جائے گا، جبکہ آسام کے 140 سرحدی دیہات بھی اس میں شامل ہوں گے۔
غیر قانونی تجاوزات کے خلاف مہم
امت شاہ نے آسام میں غیر قانونی تجاوزات کو سب سے بڑا مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ کئی دیہات پر قبضہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ دس برسوں میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت نے تجاوزات روکنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ ہیمنت بسوا شرما کی قیادت میں غیر قانونی زمینوں کو خالی کرانے کی مہم جاری ہے اور دراندازوں کی مرحلہ وار نشاندہی کرکے انہیں بے دخل کیا جائے گا۔
بنیادی ڈھانچے میں پیش رفت کا دعویٰ
سلچر میں عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے امت شاہ نے کہا کہ گزشتہ پانچ برسوں میں آسام میں روزانہ اوسطاً 14 کلومیٹر سڑک تعمیر کی گئی، سیکڑوں پل مکمل کیے گئے اور چار بڑے نئے پلوں کا افتتاح ہوا۔ انہوں نے سابقہ کانگریس حکومتوں پر تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ انہوں نے آسام کی ترقی پر توجہ نہیں دی اور ریاست کی سرحدوں کو دراندازی کے لیے کمزور چھوڑ دیا۔ ان کے مطابق موجودہ حکومت نے دس برسوں میں وہ کام کیے جو کانگریس پچاس برسوں میں نہ کر سکی۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
