Urdu Conclave 2026

Donald Trump on India-US Trade: ’کچھ نہیں بدلے گا، بھارت پر ٹیرف برقرار رہے گا…‘ امریکی عدالت کے فیصلے کے بعد تجارتی معاہدے پر ٹرمپ کا بیان

امریکی سپریم کورٹ نے ٹرمپ کے ٹیرف کو غیر قانونی قرار دیا ہے، تاہم ڈونالڈ ٹرمپ نے واضح کیا کہ بھارت-امریکہ تجارتی معاہدے میں کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت بدستور 18 فیصد ٹیرف ادا کرتا رہے گا اور دونوں ممالک کے درمیان تعلقات مضبوط رہیں گے۔

امریکی صدر ڈولنڈ ٹرمپ۔

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے جمعہ کے روز امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے پر پہلی بار ردِعمل دیتے ہوئے سخت تبصرہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت-امریکہ تجارتی معاہدے میں کسی قسم کی کوئی تبدیلی نہیں ہوگی۔ واضح رہے کہ عدالت نے اس سے قبل ٹرمپ انتظامیہ کے عائد کردہ ٹیرف کو غیر مؤثر قرار دیا تھا، تاہم اس معاملے پر ٹرمپ نے صاف الفاظ میں کہا کہ بھارت بدستور 18 فیصد ٹیرف ادا کرتا رہے گا۔ میڈیا سے گفتگو کے دوران انہوں نے کہا، ’’کچھ بھی نہیں بدلے گا، انہیں ٹیرف دینا ہوگا اور ہمیں نہیں دینا ہوگا۔‘‘ٹرمپ نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی تعریف کرتے ہوئے انہیں ایک عظیم شخصیت قرار دیا، لیکن ساتھ ہی واضح کیا کہ تجارتی معاہدے کی شرائط میں کسی تبدیلی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے عدالت کے فیصلے کے بعد بھارت-امریکہ تجارتی معاہدے پر اپنا مؤقف واضح کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت معمول کے مطابق جاری رہے گی اور معاہدے میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں ہوگی۔

عدالت کے فیصلے کے بعد ٹرمپ کا بیان

ٹرمپ نے کہا کہ بھارت کے ساتھ ان کے تعلقات انتہائی مضبوط ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان تجارت جاری ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بھارت روس سے تیل درآمد کر رہا تھا، تاہم ان کی درخواست پر نئی دہلی نے ان تعلقات میں کافی حد تک کمی کی کیونکہ ایک بڑے جنگی تنازع کو ختم کرنا ضروری تھا، جس میں ہر ماہ ہزاروں افراد ہلاک ہو رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ ان کے تعلقات بہت اچھے ہیں۔ ٹرمپ کے مطابق انہوں نے بھارت کو واضح پیغام دیا تھا کہ اگر کوئی ملک تنازع جاری رکھنا چاہتا ہے تو وہ امریکہ کے ساتھ تجارت نہیں کر سکے گا اور بھاری ٹیرف کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ان کے بقول بعد میں رابطہ کر کے بتایا گیا کہ صورتحال میں بہتری آ گئی ہے۔

تجارتی معاہدے کا فریم ورک تیار

امریکہ اور بھارت کے درمیان ایک عبوری تجارتی معاہدہ طے پایا تھا جس کے تحت واشنگٹن نے ٹیرف کو پہلے کے 50 فیصد سے کم کر کے 18 فیصد کر دیا، جبکہ نئی دہلی نے امریکی مصنوعات پر صفر ٹیرف لگانے پر رضامندی ظاہر کی۔ اس معاہدے پر مارچ کے آخر تک دستخط ہونے کی توقع ہے۔ ٹرمپ نے زور دے کر کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے سے اس ڈیل پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔

سپریم کورٹ کے فیصلے کا اثر

امریکی سپریم کورٹ نے 6 کے مقابلے میں 3 کی اکثریت سے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ متعدد تجارتی شراکت دار ممالک پر عائد وسیع ٹیرف وفاقی قانون کی خلاف ورزی تھے۔ ٹرمپ نے اس فیصلے کو مایوس کن قرار دیا، لیکن ساتھ ہی واضح کیا کہ بھارت-امریکہ تجارتی معاہدہ اپنی جگہ برقرار رہے گا اور امکان ہے کہ یہ اپریل سے نافذ ہو جائے گا، جس سے دونوں ممالک کے تجارتی تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔

کیا امریکہ 18 فیصد ٹیرف عائد کرے گا؟

ٹرمپ کے بیان کے مطابق امریکہ بھارت میں تیار کردہ مختلف مصنوعات پر 18 فیصد ریسیپروکل ٹیرف برقرار رکھ سکتا ہے۔ ان میں ٹیکسٹائل و ملبوسات، چمڑا و جوتے، پلاسٹک اور ربڑ مصنوعات، آرگینک کیمیکلز، گھریلو سجاوٹ کی اشیا، دستکاری مصنوعات اور کچھ مشینری شامل ہیں۔

تاہم عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ امریکی صدر کو 1977 کے انٹرنیشنل ایمرجنسی اکنامک پاورز ایکٹ (IEEPA) کے تحت وسیع پیمانے پر ٹیرف نافذ کرنے کا مکمل اختیار حاصل نہیں ہے، جس کے باعث اس معاملے پر قانونی اور تجارتی بحث بدستور جاری رہنے کا امکان ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read