Urdu Conclave 2026

Trade Deals

ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب واشنگٹن اور نئی دہلی دونوں میں یہ توقعات بڑھ رہی ہیں کہ فریقین ایک ایسے تجارتی معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں جو منڈیوں تک رسائی آسان بنانے اور ٹیرف سے متعلق متعدد تنازعات کم کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔

وزیر اعظم مودی کا پانچ ممالک پر مشتمل تاریخی غیر ملکی دورہ مکمل ہوگیا ہے، جسے بھارت کی سفارتی، اقتصادی اور تزویراتی پالیسی کے لحاظ سے ایک اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔ 15 مئی کو نئی دہلی سے روانہ ہونے والے وزیر اعظم نے متحدہ عرب امارات، نیدرلینڈز، سویڈن، ناروے اور اٹلی کا دورہ کیا۔

بھارت کے دورے پر آئے کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی کے ساتھ وزیر اعظم نریندر مودی کی ملاقات میں ٹیکنالوجی، توانائی اور اہم معدنیات کے شعبوں میں اہم معاہدے طے پائے۔ دونوں ممالک نے سال 2030 تک دوطرفہ تجارت کو 50 ارب ڈالر تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا، جبکہ جامع اقتصادی شراکت داری معاہدہ (سی ای پی اے) پر بھی پیش رفت ہوئی۔

امریکی سپریم کورٹ نے ٹرمپ کے ٹیرف کو غیر قانونی قرار دیا ہے، تاہم ڈونالڈ ٹرمپ نے واضح کیا کہ بھارت-امریکہ تجارتی معاہدے میں کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت بدستور 18 فیصد ٹیرف ادا کرتا رہے گا اور دونوں ممالک کے درمیان تعلقات مضبوط رہیں گے۔

وزیراعظم نریندر مودی نے نئی دہلی میں جاری ’اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026‘ کے موقع پر فن لینڈ کے فن لینڈ کے وزیر اعظم پیٹیری سے دوطرفہ بات چیت کی، جسے دونوں ممالک کے لیے نہایت اہم قرار دیا گیا۔ ملاقات میں تجارت، جدید ٹیکنالوجی اور پائیدار ترقی کے شعبوں پر زور دیا گیا۔

بھارت اور امریکہ کے درمیان مجوزہ تجارتی معاہدے کو لے کر لوک سبھا میں بدھ کے روز حکومت کی جانب سے واضح اور دو ٹوک مؤقف سامنے آیا۔ مرکزی وزیر تجارت و صنعت پیوش گوئل نے ایوان کو یقین دلایا کہ بھارت۔امریکہ ٹریڈ ڈیل مکمل طور پر متوازن ہے اور اس سے بھارتی کسانوں، زرعی شعبے اور ڈیری سیکٹر کو کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچے گا۔

بھارت کے وزیر خارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر نے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات کی. اس دوران دونوں نے دو طرفہ تعلقات کے ساتھ ساتھ علاقائی اور عالمی مسئلے پر بھی تبادلہ خیال کیا۔

مرکزی وزیر پیوش گوئل نے اس موقع پر بھارت کی بڑی گھریلو طلب کی اہمیت پر بھی زور دیا اور کہا کہ ملکی صنعت کو ترقی دے کر ہم کئی درآمدات کا متبادل خود تیار کر سکتے ہیں۔