Urdu Conclave 2026

PM Modi-Mark Carney, India-Canada Trade Deal: اے آئی، کوانٹم سے لے کر سیمی کنڈکٹرز تک… بھارت-کینیڈا کے درمیان کن کن معاہدوں پر ہوا اتفاق؟

بھارت کے دورے پر آئے کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی کے ساتھ وزیر اعظم نریندر مودی کی ملاقات میں ٹیکنالوجی، توانائی اور اہم معدنیات کے شعبوں میں اہم معاہدے طے پائے۔ دونوں ممالک نے سال 2030 تک دوطرفہ تجارت کو 50 ارب ڈالر تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا، جبکہ جامع اقتصادی شراکت داری معاہدہ (سی ای پی اے) پر بھی پیش رفت ہوئی۔

کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی کے چار روزہ دورۂ بھارت کے دوران دونوں ممالک کے درمیان کئی اہم معاہدوں پر اتفاق کیا گیا۔ پیر کے روز منعقدہ مشترکہ پریس کانفرنس میں وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ ہماری پہلی ہی ملاقات سے دوطرفہ تعلقات میں نئی توانائی، باہمی اعتماد اور مثبت پیش رفت دیکھنے کو ملی ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت اور کینیڈا جمہوری اقدار پر یقین رکھتے ہیں اور انسانیت کی فلاح دونوں ممالک کا مشترکہ وژن ہے۔ اسی مقصد کے تحت سال 2030 تک دوطرفہ تجارت کو 50 ارب ڈالر تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

بھارت اور کینیڈا کے درمیان کن معاہدوں پر اتفاق ہوا؟

بھارت اور کینیڈا نے مستقبل کی جدید ٹیکنالوجیز کے شعبوں میں مشترکہ طور پر کام کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے واضح کیا کہ دونوں ممالک کوانٹم کمپیوٹنگ، سپر کمپیوٹنگ، مصنوعی ذہانت (AI) اور سیمی کنڈکٹرز کے میدان میں تعاون کو مزید وسعت دیں گے۔ اس کے علاوہ خلائی شعبے میں دونوں ممالک کے اسٹارٹ اپس اور نجی صنعتوں کو آپس میں جوڑنے کی بھی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ یہ تعاون بھارت کے سیمی کنڈکٹر مشن اور کوانٹم مشن کو عالمی سطح پر مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہوگا، جبکہ کوانٹم اور اے آئی کے شعبے میں کینیڈا کی مہارت سے بھارت کو بڑا فائدہ ملنے کی توقع ہے۔

اہم معدنیات اور سپلائی چین پر مفاہمتی یادداشت

اقتصادی سلامتی کو مدنظر رکھتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان اہم معدنیات (کریٹیکل منرلز) کے حوالے سے مفاہمتی یادداشت (MoU) پر دستخط کیے گئے۔ کینیڈا کے بین الاقوامی تجارتی وزیر منیندر سدھو اور بھارت کے مرکزی وزیر تجارت پیوش گوئل نے جامع اقتصادی شراکت داری معاہدہ (CEPA) کے لیے ٹرمز آف ریفرنس اور جوائنٹ پلس پروٹین سینٹر آف ایکسی لینس سے متعلق دستاویزات کا تبادلہ کیا۔

اس معاہدے کا مقصد عالمی سپلائی چین کو مضبوط اور مستحکم بنانا ہے۔ کینیڈا کے پاس لیتھیم، کوبالٹ اور نکل جیسے اہم معدنیات کے بڑے ذخائر موجود ہیں، جو بھارت کی الیکٹرک وہیکل بیٹری اور سیمی کنڈکٹر صنعت کے لیے انتہائی ضروری سمجھے جاتے ہیں۔

توانائی اور مستقبل کی حکمتِ عملی

توانائی کے شعبے میں شراکت داری کو نئی بلندیوں تک لے جانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔ تعاون کے اہم شعبوں میں ہائیڈروکاربن، قابلِ تجدید توانائی، گرین ہائیڈروجن اور انرجی اسٹوریج شامل ہوں گے۔ اسی سال ’بھارت۔کینیڈا رینیوایبل انرجی اور اسٹوریج سمٹ‘ کے انعقاد کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔وزیر اعظم مودی نے کینیڈا کے انٹرنیشنل سولر الائنس (ISA) اور گلوبل بایوفیول الائنس میں شامل ہونے کے فیصلے کا خیرمقدم کیا۔ کینیڈا کے پنشن فنڈز پہلے ہی بھارت میں تقریباً 100 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کر چکے ہیں، جس سے سرمایہ کاری اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہونے کی امید ہے۔

بھارت۔کینیڈا تعلقات میں نئی توانائی

وزیر اعظم مودی کے مطابق اقتصادی تعاون کی مکمل صلاحیت کو بروئے کار لانا دونوں ممالک کی ترجیح ہے۔ اس دورے سے بھارت اور کینیڈا کے تعلقات میں نئی توانائی، باہمی اعتماد اور مثبت پیش رفت آئی ہے، جس کے بعد ٹیکنالوجی، توانائی، معدنیات اور تجارت کے شعبوں میں مضبوط شراکت داری قائم ہونے کی راہ ہموار ہوئی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read