Urdu Conclave 2026

SC’s stern comment on freebies: ’’مفت سہولیات دیتے رہیں گے تو کہاں سے آئے گا ترقی کے لیے پیسہ…‘‘؟ فری بیز پر سپریم کورٹ کا سخت تبصرہ

فری بیز سے متعلق معاملے کی سماعت چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی والی بنچ نے کی۔ چیف جسٹس نے بڑھتے ہوئے ریونیو خسارے کے باوجود ریاستی حکومتوں کی جانب سے مفت اسکیمیں جاری رکھنے پر سوال اٹھایا۔

نئی دہلی: مفت سہولیات (فری بیز) کے وعدوں پر سپریم کورٹ نے سخت تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومتوں کو صرف مفت اشیاء تقسیم کرنے کے بجائے روزگار پیدا کرنے پر زیادہ توجہ دینی چاہیے۔ عدالت کا کہنا تھا کہ اس طرح مسلسل مفت سہولیات دینے سے ملک کی معاشی ترقی متاثر ہو سکتی ہے۔

فری بیز سے متعلق معاملے کی سماعت چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی والی بنچ نے کی۔ چیف جسٹس نے بڑھتے ہوئے ریونیو خسارے کے باوجود ریاستی حکومتوں کی جانب سے مفت اسکیمیں جاری رکھنے پر سوال اٹھایا۔

چیف جسٹس نے کہا، ’’کئی ریاستی حکومتیں بھاری قرض اور مالی خسارے کے باوجود مفت اسکیمیں چلا رہی ہیں۔ اگر حکومتیں مفت رقم، بجلی یا دیگر سہولیات دیتی رہیں گی تو آخر اس کا خرچ کون برداشت کرے گا؟ اگر مفت کھانا، سائیکل اور بجلی جیسی سہولیات مسلسل فراہم کی جائیں گی تو ترقیاتی کاموں کے لیے وسائل کہاں سے آئیں گے؟‘‘

انہوں نے مزید کہا کہ کئی ریاستیں پہلے ہی مالی خسارے کا سامنا کر رہی ہیں، اس کے باوجود نئی نئی فلاحی اسکیموں کا اعلان کیا جا رہا ہے۔ عدالت نے کیش ٹرانسفر اور مفت سہولیات کے اعلانات کی مالی دانشمندی پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ریاستوں کو امداد بڑھانے کے بجائے روزگار کے مواقع پیدا کرنے کو ترجیح دینی چاہیے۔

تمل ناڈو حکومت کو بھی سخت سرزنش

اس معاملے میں سپریم کورٹ نے تمل ناڈو حکومت کو بھی سخت سرزنش کی۔ ریاستی حکومت نے بعض طبقات کے لیے بجلی ٹیرف میں سبسڈی اسکیم کا اعلان کیا تھا، جس کے باعث پاور ڈسٹری بیوشن کمپنیوں پر مالی دباؤ بڑھ گیا۔ ریاستی حکومت کے اس فیصلے کے خلاف بجلی تقسیم کار کمپنیوں نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے۔

ترقیاتی کاموں کے لیے نہیں ہیں وسائل

سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ ریاستوں کو روزگار کے مواقع پیدا کرنے پر کام کرنا چاہیے۔ مفت خوراک، مفت سائیکل اور مفت بجلی سے آگے بڑھتے ہوئے اب ہم اس مرحلے پر پہنچ رہے ہیں جہاں لوگوں کے بینک کھاتوں میں براہ راست نقد رقم منتقل کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا، ’’سوچیے، زیادہ تر ریاستیں ریونیو خسارے میں ہیں، لیکن صرف ان پالیسیوں کی وجہ سے وہ مجبور ہیں اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے وسائل دستیاب نہیں رہتے۔‘‘

عدالت نے کہا کہ جو لوگ تعلیم حاصل کرنے یا معمول کی زندگی گزارنے کے قابل نہیں ہیں، ان کی مدد کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے، لیکن جو لوگ بہتر حالت میں ہیں، اکثر فری بیز کا فائدہ سب سے پہلے انہی تک پہنچ رہا ہے۔

عدالت نے ٹائمنگ پر بھی اٹھایا سوال

عدالت نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ انتخابات سے عین قبل ایسی اسکیموں کا اعلان کیوں کیا جاتا ہے۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں اور سماجی ماہرین کو اس مسئلے پر سنجیدگی سے دوبارہ غور کرنے کی ضرورت ہے اور یہ سوچنا ہوگا کہ یہ سلسلہ آخر کب تک جاری رہے گا۔

بھارت ایکسپریس۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read