نئی دہلی: اردواکادمی، دہلی کے زیرِ اہتمام تین روزہ قومی سمینار’’اکیسویں صدی میں ادبی رجحانات: تجزیہ اورامکانات‘‘ کا افتتاحی اجلاس 7 فروری 2026 کوپروفیسرقمررئیس سلورجبلی آڈیٹوریم میں منعقد ہوا۔ یہ سمینار7 تا 9 فروری 2026 تک جاری رہے گا، جس میں ملک بھرسے ممتازناقدین، اساتذہ اوراہلِ قلم شرکت کررہے ہیں۔ افتتاحی اجلاس کی صدارت نامور محقق ونقاد پروفیسر عبدالحق نے کی، جبکہ کلیدی خطبہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبۂ اردو کے ریٹائرڈ پروفیسر قاضی جمال حسین نے پیش کیا۔ فیکلٹی آف آرٹس، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے سابق ڈین اور معروف ادیب و دانشور پروفیسر قاضی افضال حسین مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے شریک ہوئے۔ اجلاس کی نظامت ڈاکٹر شفیع ایوب نے خوش اسلوبی سے انجام دی۔
پروفیسرابوبکرعباد نے سیمینارکا خاکہ پیش کیا
سمینار کے کنوینر پروفیسرابوبکرعباد نے سمینار کا خاکہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ ٹیکنالوجی، عالمگیریت، سماجی تغیرات اور شناخت سے متعلق نئے مباحث نے ادب کے مزاج، موضوعات اور اسالیب کو گہرے طور پر متاثر کیا ہے۔ دیگر زبانوں کی طرح اردو ادب میں بھی یہ رجحانات تیزی سے داخل ہورہے ہیں، جبکہ مصنوعی ذہانت سے حاصل شدہ وسائل تحقیق کے میدان میں نئی جہات اور امکانات پیدا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سمینار کا بنیادی مقصد ان بدلتے ہوئے رجحانات کا مختلف زاویوں سے جائزہ لینا اور ان کے ادبی وتحقیقی نتائج تک پہنچنا ہے۔
اپنے کلیدی خطاب میں پروفیسرقاضی جمال حسین نے کہا کہ کسی بھی ادبی نظریے، تحریک یا رویّے کوادعائیت کے ساتھ قبول کرنا مناسب نہیں، کیوں کہ ادبی نظریات کوئی جامد عقیدہ نہیں ہوتے بلکہ وقت، حالات اورانسانی تصورات کے ساتھ بدلتے رہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپنے قائم شدہ تصورات خواہ ادبی ہوں یا سماجی کو ترک کرنا مشکل ضرور ہوتا ہے، مگر فکری ارتقا کے لیے اس جمود کو توڑنا ناگزیرہے۔ انھوں نے جدیدیت کے حوالے سے گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ اگرشب خون اورشمس الرحمن فاروقی کی تحریروں سے جدیدیت کے آغازکوتسلیم کیا جائے تویہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ طویل عرصے کے بعد کیا کوئی نظریہ فرسودہ نہیں ہوسکتا؟ ان کے مطابق زبان، فلسفہ، لسان اورتصوراتِ حیات میں تبدیلی کے ساتھ نظریۂ ادب میں تبدیلی فطری عمل ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ نظامِ کائنات میں سکون نہیں بلکہ صرف تبدیلی ہی مستقل ہے، اس لیے ادب میں آنے والی تبدیلیوں کوخوش دلی سے قبول کیا جانا چاہیے۔ اردو کلاسیکی شاعری کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جس طرح انسانی زندگی میں بڑھاپا آتا ہے، اسی طرح الفاظ بھی وقت کے ساتھ اپنی معنوی کشش کھو دیتے ہیں اوریہی عمل نئے رجحانات کی راہ ہموارکرتا ہے۔
مہمانِ خصوصی پروفیسرقاضی افضال حسین نے مغربی تنقیدی تصورات پرطنزیہ اندازمیں اظہارِخیال کرتے ہوئے کہا کہ اردومیں بیسویں صدی کی بیشترادبی تحریکات مغرب سے مستعار نظریات پر مبنی تھیں، جس کے نتیجے میں ہم کسی نہ کسی نظریے کے سہارے لکھنے کے عادی ہو گئے۔ انہوں نے کہا کہ جدیدیت کے دورمیں بھی شاہ ولی اللہ دہلوی کی اسلامی فکری قوت کارفرما رہی، جس نے شعرا و ادبا کومتاثرکیا۔ ان کے مطابق اکیسویں صدی میں ابھرنے والی تحریکات محض مغرب کی نقالی نہیں ہوں گی، بلکہ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ اسلام کے بنیادی ماخذ سے جنم لینے والی فکری وادبی تحریکات کو ترجیح دی جائے اورادب میں اپنی تہذیبی شناخت کوخود متعارف کرایا جائے، کیوں کہ مغربی قوم آج مادی اعتبار سے مشرق کے مقابلے میں زوال کا شکار ہو چکی ہے اور ایک شکست خوردہ قوم کی تحریک نہ مضبوط ہوتی ہے اورنہ دیرپا ثابت ہوسکتی ہے۔
اپنے صدارتی خطاب میں پروفیسرعبدالحق نے ترقی پسند تحریک اوردیگرمغربی تصورات کو ادب کے لیے نقصان دہ قراردیتے ہوئے کہا کہ ہردورمیں مختلف تحریکات ابھرتی ہیں، مگروقت گزرنے کے ساتھ ان میں سے اکثراپنی معنویت کھوبیٹھتی ہیں۔ ان کے مطابق ترقی پسند تحریک کے زیرِاثربعض تخلیقی کام ضرورسامنے آئے، تاہم اس کے نظریاتی دباؤنے مجموعی طورپر اردوادب کونقصان پہنچایا۔
سمینارکے دوسرے دن منعقد ہونے والے پہلے اجلاس کی صدارت پروفیسرقاضی افضال حسین، پروفیسرقاضی جمال حسین اورپروفیسرصفدرامام قادری نے مشترکہ طورپرکی۔ جبکہ نظامت ڈاکٹرسلمان فیصل نے انجام دی۔ اس اجلاس میں پروفیسرشہنازنبی، پروفیسرمشتاق احمد، پروفیسرندیم احمد، سید ابوذرہاشمی، ڈاکٹرارشاد نیازی اورڈاکٹرشہنازرحمان نے مجوزہ عناوین پرمقالات پیش کئے، جن پرسنجیدہ اوربامعنی گفتگو ہوئی۔ مقالات کے بعد اظہارِخیال کرتے ہوئے پروفیسرصفدرامام قادری نے کہا کہ سمینارکے مرکزی موضوع سے ہم آہنگ کئی اہم ذیلی عناوین نظر اندازہوگئے، حالانکہ ان کے ذریعے اکیسویں صدی کے ادبی رجحانات پر زیادہ جامع گفتگو ممکن تھی۔ پروفیسرقاضی جمال حسین نے اس موقع پرکہا کہ سمینارکا موضوع بظاہرسادہ دکھائی دیتا ہے، مگراپنے باطن میں گہری فکری معنویت رکھتا ہے۔
ظہرانے کے بعد منعقد ہونے والے دوسرے اجلاس کی صدارت پروفیسر شہزاد انجم، پروفیسر کوثر مظہری اور پروفیسر شیخ عقیل احمد نے کی، جبکہ نظامت ڈاکٹرافسانہ حیات نے انجام دی۔ اس اجلاس میں احمد صغیر، ڈاکٹرآفاق عالم صدیقی، ڈاکٹرجاوید رحمانی اورڈاکٹرسنجے کمارنے مجوزہ عناوین پرمقالات پیش کیے۔
اپنے صدارتی خطاب میں پروفیسرکوثرمظہری نے کہا کہ مقالہ پڑھ کرغیرحاضر ہوجانے والے مقالہ نگاروں کے مقالات پرتبصرہ بے معنی ہوجاتا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ مقالہ نگار سیشن کے اختتام تک موجود رہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ معلومات کا عہد ہے، مقالات توکثرت سے لکھے جا رہے ہیں، مگرناول اورافسانے کے سنجیدہ قارئین کم ہوتے جا رہے ہیں۔ پروفیسر شہزاد انجم نے کہا کہ ہم گلوبلائزیشن اورمصنوعی ذہانت کے دورمیں سانس لے رہے ہیں، جہاں نت نئے عصری مسائل تیزی سے جنم لے رہے ہیں اوریہی مسائل آج ہمارے ادب کے اہم موضوعات بن چکے ہیں۔ پروفیسرشیخ عقیل احمد نے اپنے تاثرات میں کہا کہ سمینار میں پیش کیے گئے کئی مقالات اصل موضوع کی تفہیم کے بغیرتحریرکیے گئے، جن میں جدید رجحانات اور عصری تقاضوں پرخاطرخواہ توجہ نہیں دی گئی۔
دونوں اجلاسوں میں پیش کیے گئے مقالات اوران پرہونے والی گفتگونے اکیسویں صدی کے بدلتے ہوئے ادبی رجحانات، فکری رویوں اورسماجی تناظرمیں اردوادب کے نئے امکانات کونمایاں کیا، جس سے سمینارکا علمی وتحقیقی مقصد واضح طورپرسامنے آیا۔ اس موقع پرمحکمہ فن، ثقافت والسنہ، حکومتِ دہلی کے ایڈیشنل سیکریٹری اوراردواکادمی کے سکریٹری لیکھ راج نے اپنے خطاب میں معززشرکاء کی شرکت کوخوش آئند قراردیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی زبان کے فروغ کے لیے اس کے وابستگان کا وقت دینا نہایت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ زبان سماج کے مختلف طبقات کوجوڑنے کا ذریعہ ہے اوراردوایک ملنسارزبان کی حیثیت سے دیگرزبانوں کے ساتھ ہم آہنگی پیدا کر رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ دہلی سرکارنے 25 سے زائد زبانوں کی اکادمیاں قائم کی ہیں اوراردوکے پروگراموں میں سماجی سطح پرادبی مباحث کوفروغ دینا اس لیے ضروری ہے تاکہ عوام اردو سے مضبوط طورپروابستہ ہوسکیں۔ سمینارمیں ادبی وعلمی حلقوں سے تعلق رکھنے والی متعدد ممتازشخصیات نے شرکت کی، جن میں پروفیسرندیم احمد، پروفیسرعمران احمد عندلیب، پروفیسرمظہراحمد، پروفیسرشہاب عنایت ملک، پروفیسرمشتاق احمد، ایڈوکیٹ اے رحمان، ڈاکٹرجاوید حسن، ڈاکٹرخان محمد رضوان، حبیب سیفی، ڈاکٹرعبدالباری، ڈاکٹرسفینہ بیگم، مستقیم احمد، اشفاق عارفی، ڈاکٹراظہارندیم، جناب قربان علی، سلام الدین خاں، ڈاکٹرمشیر احمد، ڈاکٹرجاوید رحمانی، ڈاکٹرنوشاد عالم، ڈاکٹرامیرحمزہ، ڈاکٹرفرمان چودھری، قمرجاوید، معین شاداب، ڈاکٹرحبیب الرحمٰن، ڈاکٹرنثار احمد خاں، ڈاکٹر ندیم احمد اوردیگرشامل تھے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

