Bharat Express DD Free Dish

Urdu Promotion

’’نئے پرانے چراغ‘‘ کا بنیادی مقصد اردو زبان وادب کی مختلف اصناف سے وابستہ اہلِ قلم کو ایک ایسا مشترکہ پلیٹ فارم فراہم کرنا ہے، جہاں نئی نسل کے تخلیق کاروں کو سینئر شعرا وادبا کے تجربات سے استفادہ کا موقع مل سکے اور دہلی کی دیرینہ ادبی روایت کو نئی فکر، تازہ امکانات اور نئی توانائی کے ساتھ آگے بڑھایا جا سکے۔ پانچ روزہ اس اجتماع کے دوران مختلف ادبی نشستیں، سمینار اور مشاعرے منعقد ہوں گے، جن میں بڑی تعداد میں شعرا، ادبا اور ریسرچ اسکالرزاپنی تخلیقات اور تحقیقی کاوشیں پیش کریں گے۔

مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلرپروفیسرمحمد میاں نے کہا کہ اردویونیورسٹی اپنے طلبا کے لئے معیاری کتابیں تیار کی ہیں اور امید ہے کہ مستقبل میں بھی مزید کتابیں تیار کی جائیں گی۔ اس یونیورسٹی  نے اردومیڈیم طلبا بالخصوص مدارس کےطلبا کے لئے  پروفیشنل کورسیز کا موقع فراہم کرکے ان کے لیے ایک بہتر مستقبل ہموار کرنے میں ایک اہم کردارادا کر رہی ہے۔

پروفیسرخواجہ محمد اکرام الدین نے اپنے خطاب میں اس بات کو خوش آئند قراردیا کہ سمینارمیں نئی نسل کی بڑی تعداد میں شرکت دیکھنے میں آئی۔ انہوں نے اس کامیاب شمولیت پراردو اکادمی کومبارکباد دی اورکہا کہ اکیسویں صدی مصنوعی ذہانت کا عہد ہے، جس کی برق رفتاری نے ہماری فکری ساخت اور طرزِ فکر کو تیزی سے بدل دیا ہے۔ ایسے بدلتے ہوئے منظرنامے میں ادب کے رجحانات اور رویوں میں تبدیلی ناگزیر ہے، جس کے اثرات تخلیقی ادب میں بھی نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔

افتتاحی اجلاس کی صدارت نامور محقق ونقاد پروفیسر عبدالحق نے کی، جبکہ کلیدی خطبہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبۂ اردو کے ریٹائرڈ پروفیسر قاضی جمال حسین نے پیش کیا۔ فیکلٹی آف آرٹس، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے سابق ڈین اور معروف ادیب و دانشور پروفیسر قاضی افضال حسین مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے شریک ہوئے۔ اجلاس کی نظامت ڈاکٹر شفیع ایوب نے خوش اسلوبی سے انجام دی۔

اس جشن کے تحت روزانہ دوپہر بارہ بجے سے رات آٹھ بجے تک مختلف پروگرام پیش کیے جا رہے ہیں، جن میں عالمی شہرت یافتہ فنکاروں کو سننے اور طلبہ کے ادبی مقابلوں کو دیکھنے کا بھرپور موقع فراہم کیا جا رہا ہے۔ اس وراثتی میلے میں اردو زبان و ادب سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیے پروگراموں کے علاوہ کتابوں، کیلی گرافی، پینٹنگز، دستکاری اور دیگر اشیاء کے اسٹالز بھی لگائے گئے ہیں۔

تقریبات کے اختتام پر ججوں اور معزز مہمانوں نے کہا کہ اردو اکادمی دہلی مبارکباد کی مستحق ہے کہ وہ نئی نسل کو اردو زبان و ادب سے جوڑے رکھنے کے لیے مسلسل کوششیں کر رہی ہے۔