Bharat Express DD Free Dish

Parliament Budget Session: راجیہ سبھا میں زبردست ہنگامہ، کھڑگے کا الزام— اپوزیشن لیڈر کو بولنے نہیں دیا جا رہا، لوک سبھا کی کارروائی ملتوی

ادھر آج صبح اپوزیشن جماعتوں نے راجیہ سبھا میں قائدحزب اختلاف کے چیمبر میں صبح 10 بجے ایک اہم میٹنگ بلائی، جس میں موجودہ صورتحال اور آئندہ حکمتِ عملی پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ اپوزیشن نے حکومت پر پارلیمانی روایات کو پامال کرنے کا الزام لگایا ہے۔

پارلیمنٹ کے بجٹ اجلاس کے دوران بدھ 5 فروری کو ایک بار پھر زبردست سیاسی ہنگامہ دیکھنے میں آیا۔ راجیہ سبھا میں اپوزیشن اور حکومت کے درمیان تلخ نوک جھونک ہوئی، جبکہ لوک سبھا کی کارروائی شور شرابے کے باعث دوپہر 12 بجے تک ملتوی کر دی گئی۔ اسی دوران یہ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وزیرِ اعظم نریندر مودی آج راجیہ سبھا سے خطاب کر سکتے ہیں۔ گزشتہ روز لوک سبھا میں شدید ہنگامے کے سبب وزیر اعظم صدرجمہوریہ کے خطاب پر تحریک تشکر کے دوران اپنا جواب پیش نہیں کر سکے تھے۔ اپوزیشن کی نعرے بازی اور شور کے باعث ایوان کی کارروائی ملتوی کر دی گئی تھی۔ ایسے میں قیاس کیا جا رہا ہے کہ لوک سبھا میں وزیراعظم کے جواب کے بغیر ہی تحریک تشکر کو منظوری دی جا سکتی ہے۔

ادھر آج صبح اپوزیشن جماعتوں نے راجیہ سبھا میں قائدحزب اختلاف کے چیمبر میں صبح 10 بجے ایک اہم میٹنگ بلائی، جس میں موجودہ صورتحال اور آئندہ حکمتِ عملی پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ اپوزیشن نے حکومت پر پارلیمانی روایات کو پامال کرنے کا الزام لگایا ہے۔

لوک سبھا کی کارروائی صبح 11 بجے شروع ہوئی، مگر آغاز کے فوراً بعد ہی ہنگامہ کھڑا ہو گیا۔ اپوزیشن ارکان نے نعرے بازی شروع کر دی، جس کے نتیجے میں اسپیکر کو ایوان کی کارروائی دوپہر 12 بجے تک ملتوی کرنی پڑی۔ اس دوران سیاسی حلقوں میں یہ بحث تیز ہو گئی کہ وزیرِ اعظم آج راجیہ سبھا میں اپنی بات رکھ سکتے ہیں، تاہم وہاں بھی اپوزیشن کی جانب سے احتجاج کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

راجیہ سبھا میں بھی صورتحال خاصی کشیدہ رہی۔ اپوزیشن لیڈر ملکارجن کھڑگے نے ایوان میں کہا کہ پارلیمنٹ کا مطلب صرف ایک ایوان نہیں بلکہ لوک سبھا اور راجیہ سبھا دونوں ہیں، لیکن افسوس کی بات ہے کہ لوک سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر کو بولنے تک نہیں دیا جا رہا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ جمہوری اقدار کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

کھڑگے کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے ایوانِ بالا کے قائد اور بی جے پی صدر جے پی نڈا نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر کو یہ بات سمجھنی چاہیے کہ لوک سبھا کی کارروائی پر راجیہ سبھا میں بحث نہیں کی جا سکتی۔ انہوں نے کہا کہ ہر ایوان کے اپنے ضابطے اور حدود ہوتے ہیں، جن کی پاسداری ضروری ہے۔مجموعی طور پر پارلیمنٹ کا ماحول بدستور کشیدہ بنا ہوا ہے اور بجٹ اجلاس کے دوران حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ٹکراؤ شدت اختیار کرتا دکھائی دے رہا ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ آیا ایوانوں میں کام کاج معمول پر آ پاتا ہے یا ہنگامہ آرائی کا سلسلہ اسی طرح جاری رہتا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read