Bharat Express DD Free Dish

Haseen Mastaan Mirza Daughter Of Haji Mastan: انصاف کے لیے دہلی پہنچی حاجی مستان کی بیٹی، وزیر اعظم دفتر، وزارت داخلہ اور صدر جمہوریہ کے دفتر میں تحریری شکایات درج کرائی، جانئے کیا ہے معاملہ؟

ممبئی کے انڈرورلڈ ڈان رہ چکے حاجی مستان کی بیٹی ہونے کا دعویٰ کرنے والی حسین مستان مرزا اپنے ساتھ مبینہ زیادتیوں اور ناانصافیوں کے خلاف انصاف کی فریاد لے کر دہلی پہنچ گئی ہیں۔ حسین مرزا نے پی ایم او، وزارت داخلہ اور صدر جمہوریہ کے دفتر میں تحریری شکایات درج کرا کے اپنی آپ بیتی سے اعلیٰ حکام کو آگاہ کیا ہے۔

نئی دہلی: ممبئی کے انڈرورلڈ ڈان رہ چکے حاجی مستان کی بیٹی ہونے کا دعویٰ کرنے والی حسین مستان مرزا اپنے ساتھ مبینہ زیادتیوں اور ناانصافیوں کے خلاف انصاف کی فریاد لے کر دہلی پہنچ گئی ہیں۔ حسین مرزا نے وزیر اعظم دفتر (پی ایم او)، وزارت داخلہ (ایم ایچ اے) اور صدر جمہوریہ کے دفتر میں تحریری شکایات درج کرا کے اپنی آپ بیتی سے اعلیٰ حکام کو آگاہ کیا ہے۔ دہلی کے دورے کے بعد حسین مستان مرزا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم انسٹاگرام پر کئی ویڈیوز اور تصاویر شیئر کیں، جن میں وہ پرامید اور مطمئن نظر آ رہی ہیں۔ اپنی پوسٹ میں انہوں نے لکھا، ’’مودی ہیں تو ممکن ہے‘‘۔ حسین کے مطابق، وزیر اعظم نریندر مودی اور صدر جمہوریہ دروپدی مرمو کے دفاتر کی جانب سے انہیں ویری فکیشن سے متعلق جواب بھی موصول ہو چکا ہے، جس کے بعد انہیں امید بندھی ہے کہ اب ان کے معاملے میں عملی کارروائی آگے بڑھے گی۔

حسین مستان مرزا کا کہنا ہے کہ وہ برسوں سے اپنے ساتھ ہونے والے مبینہ مظالم کے خلاف انصاف کے لیے جدوجہد کر رہی ہیں، مگر اب تک انہیں خاطر خواہ انصاف نہیں مل سکا۔ انہوں نے دہلی پہنچ کر اعلیٰ سطح پر اپنی شکایت درج کرائی ہے، تاکہ ان کے الزامات کی غیر جانبدارانہ جانچ ہو سکے اور ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔

یہ پہلا موقع نہیں ہے جب حسین مستان مرزا سرخیوں میں آئی ہوں۔ اس سے قبل بھی وہ سوشل میڈیا پر سنگین الزامات عائد کر چکی ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ نابالغی کے دوران ان کے ساتھ جنسی استحصال کیا گیا اور بعد میں زبردستی شادی کرا دی گئی۔ حسین کے مطابق، ان کی مرضی کے خلاف حیدرآباد میں رہنے والے ایک رشتہ دار سے ان کی شادی کرائی گئی اور جب وہ حاملہ ہوئیں تو ان کا جبراً اسقاط حمل بھی کرایا گیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مبینہ واقعات کے وقت وہ نابالغ تھیں، اس کے باوجود ان کی شناخت چھپا کر ان کے ساتھ زیادتی کی گئی اور شدید ذہنی اذیت دی گئی۔ حسین کا کہنا ہے کہ نہ صرف انہیں جسمانی اور ذہنی تشدد کا سامنا کرنا پڑا بلکہ بعد میں انہیں اپنے والد کی جائیداد سے بھی محروم کر دیا گیا۔

حسین مستان مرزا کے مطابق، وہ گزشتہ دس برسوں سے زیادہ عرصے سے اپنے حق اور انصاف کے لیے قانونی لڑائی لڑ رہی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ سال 2013 سے انہوں نے اس معاملے میں عدالتی راستہ اختیار کیا، مگر مالی مشکلات کے باعث قانونی کارروائی کو مسلسل آگے بڑھانا ممکن نہیں ہو سکا۔ انہوں نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ پولیس کی جانب سے انہیں مناسب تعاون نہیں ملا، جس کی وجہ سے ان کے کیس میں تاخیر ہوتی رہی۔ دہلی کے سفر کے دوران شیئر کی گئی ویڈیو میں حسین مستان مرزا پُراعتماد اور پُرامید دکھائی دے رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اب انہیں یقین ہو چلا ہے کہ ملک کی اعلیٰ قیادت تک ان کی آواز پہنچ گئی ہے اور انہیں انصاف ضرور ملے گا۔ ان کے مطابق، انہیں امید ہے کہ اس بار ان کی دہائی کو سنجیدگی سے سنا جائے گا اور ان کے ساتھ ہونے والی مبینہ ناانصافیوں کا خاتمہ ہوگا۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read