دہلی ہائی کورٹ نے فلم اداکار سلمان خان کو نوٹس جاری کرتے ہوئے چار ہفتوں کے اندر جواب داخل کرنے کی ہدایت دی ہے۔ یہ نوٹس چین میں قائم ایک اے آئی وائس جنریشن کمپنی کی جانب سے دائر درخواست پر جاری کیا گیا ہے۔ عدالت نے اس معاملے کی اگلی سماعت 27 فروری کو مقرر کی ہے۔
عبوری حکم پر سوال
درخواست گزار نے ہائی کورٹ سے سلمان خان کے شخصی حقوق (Personality Rights) سے متعلق دیے گئے عبوری حکم کو منسوخ کرنے کی اپیل کی ہے۔ عدالت اس سے قبل سلمان خان کی آواز اور شناخت کے استعمال پر عارضی پابندی عائد کر چکی ہے۔
ترمیم شدہ درخواست پر ناراضگی
گزشتہ سماعت کے دوران عدالت نے سلمان خان کی جانب سے ترمیم شدہ درخواست داخل نہ کیے جانے پر ناراضگی ظاہر کی تھی۔ سلمان خان کے وکیل نظام پاشا نے بتایا کہ درخواست ابھی تک داخل نہیں ہو سکی، جس پر عدالت نے مزید تین دن کی مہلت دی۔
سوشل میڈیا پر پابندی
عدالت نے پہلے ہی حکم دیا تھا کہ درخواست گزار کو عدالت سے رجوع کرنے سے قبل سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے رابطہ کرنا چاہیے۔ اس کے ساتھ ساتھ بغیر اجازت مرچنڈائز کی فروخت اور جعلی پروفائلز بنانے پر بھی پابندی عائد کی گئی تھی۔
دیگر معاملات کا حوالہ
سلمان خان کی جانب سے پیش ہونے والے وکیل سندیپ سیٹھ نے اداکار اجے دیوگن سے متعلق ایک معاملے کی مثال پیش کی۔ عدالت نے اشارہ دیا کہ یہاں بھی وہی طریقۂ کار اپنایا جائے گا اور متعلقہ پلیٹ فارمز کو مطلع کرنے کی ہدایت دی جائے گی۔
اداکار کی مانگ
سلمان خان کا مطالبہ ہے کہ ان کے نام، شناخت اور آواز کا بغیر اجازت تجارتی استعمال نہ کیا جائے۔ اس میں اے آئی سے تیار ڈیپ فیک ویڈیوز، نقلی مصنوعات، جھوٹے اشتہارات اور سوشل میڈیا پر بنائے گئے جعلی اکاؤنٹس شامل ہیں۔
سیلیبریٹیز میں بڑھتا رجحان
حالیہ مہینوں میں کئی بڑے ستارے جیسے امیتابھ بچن، جیا بچن، اجے دیوگن، رجنی کانت اور وراٹ کوہلی بھی عدالت کا رخ کر چکے ہیں۔ ان سب کا کہنا ہے کہ ان کی شناخت کا غلط استعمال ان کے شخصی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

