Bharat Express DD Free Dish

Iran television threat to Trump: اس بار نشانہ نہیں چوکے گا، ایرانی سرکاری چینل سے ملی ٹرمپ کو دھمکی

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی سرکاری چینل نے جولائی 2024 میں امریکی ریاست پنسلوانیا کے شہر بٹلر میں منعقدہ انتخابی جلسے کی ایک تصویر دکھائی۔ اس واقعے میں ٹرمپ پر گولی چلائی گئی تھی جو انہیں معمولی سا چھوتی ہوئی گزر گئی تھی۔ اس تصویر کے ساتھ جو پیغام نشر کیا گیا، اس میں لکھا تھا: ’’اس بار نشانہ چوکنے والا نہیں ہے۔‘‘

File Photo

امریکہ اور ایران کے تعلقات پہلے ہی شدید تناؤ کا شکار تھے، لیکن ایرانی سرکاری ٹیلی وژن کی ایک حالیہ نشریات نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ سرکاری چینل پر ایسا مواد نشر کیا گیا ،جس میں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے خلاف کھلی دھمکی کا تاثر دیا گیا۔ اس نشریات میں 2024 کی انتخابی مہم کے دوران ٹرمپ پر ہونے والے حملے کی پرانی تصاویر استعمال کی گئیں، جب ان پر فائرنگ کی گئی تھی قابل ذکر بات یہ ہےکہ وہ بال بال بچ گئے تھے۔

پرانی تصویر، نیا پیغام

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی سرکاری چینل نے جولائی 2024 میں امریکی ریاست پنسلوانیا کے شہر بٹلر میں منعقدہ انتخابی جلسے کی ایک تصویر دکھائی۔ اس واقعے میں ٹرمپ پر گولی چلائی گئی تھی جو انہیں معمولی سا چھوتی ہوئی گزر گئی تھی۔ اس تصویر کے ساتھ جو پیغام نشر کیا گیا، اس میں لکھا تھا: ’’اس بار نشانہ چوکنے والا نہیں ہے۔‘‘ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ ایران کی جانب سے اب تک کی سب سے براہِ راست اور کھلی دھمکی سمجھی جا رہی ہے۔

فوجی کارروائی کا خدشہ

یہ دھمکی ایسے وقت سامنے آئی ہے، جب ڈونالڈ ٹرمپ ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی پر غور کرنے کے بیانات دے چکے ہیں۔ ایرانی قیادت کا الزام ہے کہ امریکہ ملک میں جاری عوامی احتجاج کو مداخلت کا بہانہ بنا رہا ہے۔ اسی دوران اطلاعات ہیں کہ امریکہ نے مشرقِ وسطیٰ میں واقع اپنے سب سے بڑے فوجی اڈے سے فوجیوں کی نقل و حرکت اور تعیناتی کا عمل تیز کر دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ نے حملہ کیا تو ایران بھی جوابی کارروائی سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔

ٹرمپ کی سخت وارننگ

منگل کو ایک نیوز چینل کو دیے گئے انٹرویو میں ڈونالڈ ٹرمپ نے سخت لہجے میں خبردار کیا کہ اگر ایران مظاہرین کے خلاف اپنی کارروائیاں مزید تیز کرتا ہے تو امریکہ سخت ردِعمل دے گا۔ انہوں نے پھانسی سے متعلق خبروں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، ’’اگر وہ ہزاروں لوگوں کی جان لینا شروع کر دیتے ہیں اور اب آپ مجھے پھانسیوں کی بات بتا رہے ہیں، تو ہم دیکھیں گے کہ اس کا ان پر کیا اثر پڑتا ہے۔‘‘

ایران کا جوابی موقف

ایرانی قیادت نے ٹرمپ کے بیانات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ امریکہ فوجی مداخلت کے لیے محض بہانے تلاش کر رہا ہے۔ دوسری جانب، تہران سے واپس آنے والے عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ دارالحکومت کے کئی علاقوں میں بھاری تعداد میں سکیورٹی فورسز تعینات ہیں اور مختلف مقامات پر پولیس اور مظاہرین کے درمیان کشیدگی برقرار ہے۔

داخلی بحران اور معاشی دباؤ

ایران کی حکومت، سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی قیادت میں، پہلے ہی شدید داخلی دباؤ کا سامنا کر رہی ہے۔ دسمبر میں مظاہروں کا آغاز اس وقت ہوا جب ایرانی ریال کی قدر تاریخی سطح تک گر گئی۔ معاشی بحران کے ساتھ ساتھ جوہری پروگرام کے باعث عائد بین الاقوامی پابندیوں نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

انسانی حقوق تنظیموں کی رپورٹ

انسانی حقوق کے اداروں کے مطابق اب تک 2,400 سے زائد مظاہرین ہلاک ہو چکے ہیں، جب کہ 147 افراد کی ہلاکت کا تعلق سرکاری فریق سے بتایا جا رہا ہے۔ رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ تقریباً 18,400 افراد کو گرفتار کر کے حراست میں لیا گیا ہے۔

اجتماعی تدفین

بدھ کے روز ایرانی حکام نے احتجاجی مظاہروں کے دوران مارے گئے 100 سکیورٹی اہلکاروں کی اجتماعی تدفین کا اہتمام کیا۔ اس موقع پر ہزاروں افراد نے شرکت کی اور ایران کا قومی پرچم اور سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی تصاویر اٹھا کر ہلاک ہونے والوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read