آن لائن شاپنگ اور کوئیک کامرس کی دنیا میں جاری ’10 منٹ ڈیلیوری‘ کی اندھی دوڑ پر اب بریک لگ گیا ہے۔ بھارت سرکار نے گِگ ورکرز (ڈیلیوری بوائز) کی سلامتی کو اولین ترجیح دیتے ہوئے ایک تاریخی قدم اٹھایا ہے۔ اب بلنکٹ (Blinkit)، زیپٹو (Zepto)، سوِگی (Swiggy) اور زوماٹو (Zomato) جیسی کمپنیاں 10 منٹ میں سامان پہنچانے کا دعویٰ نہیں کر سکیں گی۔ مرکزی وزیرِ محنت منسکھ مانڈویہ کی سخت مداخلت کے بعد ان کمپنیوں نے ٹائم لِمٹ کی شرط ختم کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ یہ فیصلہ ملک بھر کے اُن لاکھوں ڈیلیوری پارٹنرز کے لیے بڑی جیت ہے جو وقت بچانے کے دباؤ میں اکثر اپنی جان خطرے میں ڈال دیتے تھے۔
حکومت کی سختی اور کمپنیوں کی رضامندی
وزیرِ محنت منسکھ مانڈویہ نے کوئیک کامرس کمپنیوں کے اعلیٰ عہدیداروں کے ساتھ ایک اہم میٹنگ کی۔ اس میٹنگ میں حکومت نے واضح پیغام دیا کہ ’’تیز ڈیلیوری کے چکر میں کسی کی جان سے کھلواڑ نہیں کیا جا سکتا۔‘‘ حکومت کے سخت مؤقف کو دیکھتے ہوئے بلنکٹ نے فوری طور پر اپنے تمام برانڈ اشتہارات سے ’10 منٹ‘ کے دعوے کو ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے۔ دیگر کمپنیوں نے بھی یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ اپنی مارکیٹنگ اور ایپ انٹرفیس سے وقت کی حد کا دباؤ ختم کریں گی۔ اب توجہ ’رفتار‘ کے بجائے ’سلامتی‘ پر ہوگی۔
ہڑتال کا اثر اور سڑکوں کی حفاظت
یہ فیصلہ یکدم نہیں لیا گیا۔ حالیہ دنوں میں گِگ ورکرز نے اپنی سلامتی اور بہتر کام کے حالات کے لیے ہڑتال کی تھی۔ ڈیلیوری بوائز کا کہنا تھا کہ کمپنیوں کی جانب سے مقرر کردہ 10 منٹ کی ڈیڈ لائن پوری کرنے کے دباؤ میں وہ اکثر تیز رفتاری پر مجبور ہو جاتے ہیں، جس سے سڑک حادثات کا خطرہ کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔ 31 دسمبر کی رات بھی گِگ ورکرز نے احتجاج کیا تھا۔ ان کا مطالبہ تھا کہ انسانی جان کو مارکیٹنگ کے ہتھکنڈوں سے بالاتر رکھا جائے۔ نئے قواعد کے تحت اب ڈیلیوری کا وقت ٹریفک اور فاصلے کی بنیاد پر طے ہوگا، نہ کہ کسی مقررہ ٹائمر پر۔ حکومت کا یہ قدم نہ صرف گِگ ورکرز کو ذہنی دباؤ سے نجات دلائے گا بلکہ سڑکوں پر ہونے والے حادثات میں بھی کمی لائے گا۔ یہ فیصلہ بھارت میں گِگ اکانومی کے لیے ایک اہم موڑ (ٹرننگ پوائنٹ) مانا جا رہا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


