Bharat Express DD Free Dish

National Herald Case: نیشنل ہیرالڈ معاملہ، راؤز ایونیو کورٹ میں ای ڈی کی چارج شیٹ پر فیصلہ مؤخر، اب 16 دسمبر کو سنایا جائے گا حکم

جہاں ای ڈی اس کیس کو ایک سنگین اقتصادی جرم اور جائیداد پر قبضہ کرنے کی سازش قرار دے رہی ہے، وہیں کانگریس لیڈران ان الزامات کو ’بہت عجیب‘ بتا رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ینگ انڈین قانونی طور پر قائم کی گئی کمپنی ہے اور اس میں کسی قسم کا ذاتی فائدہ شامل نہیں۔

نئی دہلی:راؤز ایونیو کورٹ نے ہفتہ کے روز نیشنل ہیرالڈ منی لانڈرنگ کیس میں ای ڈی کی جانب سے داخل کی گئی چارج شیٹ پر سنجیدگی سے نوٹس لینے کے فیصلے کو مؤخر کر دیا ہے۔ اب عدالت 16 دسمبر کو اپنا فیصلہ سنائے گی۔ اس دوران ای ڈی کی جانچ کے خلاف کانگریس نے دلیل دی کہ یہ سیاسی انتقام کی کارروائی ہے۔

سونیا گاندھی اور راہل گاندھی کو بنایا گیا ملزم

اس معاملے میں کانگریس پارلیمانی پارٹی کی صدر سونیا گاندھی، لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی، کانگریس اوورسیز کے سربراہ سیم پترودا، سمن دوبے، سنیل بھنڈاری، ینگ انڈین اور ڈوٹیکس مرچنڈائز پرائیویٹ لمیٹڈ کو پریوینشن آف منی لانڈرنگ ایکٹ (PMLA) کے تحت ملزم بنایا گیا ہے۔

کورٹ نے ای ڈی سے طلب کی اضافی وضاحت

راؤز ایونیو کورٹ کے خصوصی جج (پی سی ایکٹ) وشال گوگنے نے 7 نومبر کو حکم محفوظ رکھتے ہوئے ای ڈی سے کچھ اضافی وضاحتیں طلب کی تھیں۔ کیس ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد عدالت نے کہا تھا کہ کچھ دستاویزات اور مالی لین دین کی تفصیلات کو مزید گہرائی سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ عدالت نے کہا تھا، “اضافی سالیسٹر جنرل نے کیس فائلوں کی جانچ کے مد نظر ضروری وضاحتیں دے دی ہیں۔ فیصلہ 29 نومبر کو سنایا جائے گا۔”

2,000 کروڑ روپے کی جائیداد پر قبضے کا الزام

ای ڈی کا الزام ہے کہ کانگریس کے اعلیٰ لیڈران نے ایک بڑی “اقتصادی سازش” کے تحت نیشنل ہیرالڈ کے اصل ناشر ایسوسی ایٹڈ جرنلز لمیٹڈ (AJL) کی 2,000 کروڑ روپے سے زائد کی جائیداد پر غیر قانونی طریقے سے قبضہ کیا۔ دعویٰ ہے کہ یہ سودا محض 50 لاکھ روپے میں ینگ انڈین نامی کمپنی کے ذریعے کیا گیا۔ ینگ انڈین میں سونیا گاندھی اور راہل گاندھی کی اکثریتی حصے داری بتائی جاتی ہے۔

عدالت کا کہنا تھا کہ لین دین سے متعلق دستاویزات، مبینہ کرایے کی رسیدیں اور فنڈ فلو کے پورے سسٹم کا تفصیلی جائزہ لیے بغیر فیصلہ ممکن نہیں۔ عدالت کے مطابق یہ جانچ ضروری تھی تاکہ دیکھا جاسکے کہ ای ڈی کی شکایت PMLA کے تحت قابلِ سماعت ہے یا نہیں۔

جہاں ای ڈی اس کیس کو ایک سنگین اقتصادی جرم اور جائیداد پر قبضہ کرنے کی سازش قرار دے رہی ہے، وہیں کانگریس لیڈران ان الزامات کو ”بہت عجیب“ بتا رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ینگ انڈین قانونی طور پر قائم کی گئی کمپنی ہے اور اس میں کسی قسم کا ذاتی فائدہ شامل نہیں۔

ای ڈی کا یہ بھی الزام ہے کہ بعض کانگریس لیڈران کی ہدایت پر جعلی ایڈوانس کرایہ ادائیگیاں دکھائی گئیں اور جعلی کرایہ رسیدیں جاری کی گئیں، جو کہ AJL کی جائیدادوں پر قابو پانے کی بڑی منصوبہ بندی کا حصہ تھا۔ نیشنل ہیرالڈ سے متعلق یہ تنازع پہلی بار 2012 میں سامنے آیا تھا، جب بی جے پی لیڈر سبرامنیم سوامی نے ٹرائل کورٹ میں شکایت دائر کی اور الزام لگایا کہ AJL کے حصول کے دوران کانگریس لیڈران نے دھوکہ دہی اور اعتماد شکنی کی۔ اس کیس کی اگلی سماعت اب 16 دسمبر کو ہوگی، جب عدالت یہ فیصلہ کرے گی کہ ای ڈی کی چارج شیٹ پر سنجیدگی سے نوٹس لیا جائے یا نہیں۔

بھارت ایکسپریس۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read