Bharat Express DD Free Dish

SIR Politics: ’’جس کے بال سفید ہو جائیں، وہ شہری نہیں ہونا چاہیے…‘‘، جانئے سندیپ دکشت نے کیوں کہی یہ بات

رام بھدراچاریہ کے اس بیان کے بارے میں کہ سونیا گاندھی ہندوستانی نہیں ہیں، کانگریس لیڈر نے کہا کہ ان کی نظر میں کون بھارتی ہے اور کون نہیں، اس کا کوئی مطلب نہیں۔ ہمارے یہاں لوگوں کی شہریت ہمارا آئین طے کرتا ہے، یہ کوئی فرد طے نہیں کر سکتا۔

کانگریس لیڈر سندیپ دکشت۔

نئی دہلی: مغربی بنگال کی ووٹر لسٹ کے خصوصی گہرے نظرثانی (SIR) کے حوالے سے اپوزیشن نے الیکشن کمیشن پر تنقید کی ہے۔ اس دوران کانگریس لیڈر سندیپ دکشت نے منگل کے روز کہا کہ SIR کا عمل شفاف نہیں ہے۔

کانگریس لیڈر سندیپ دکشت نے آئی اے این ایس سے بات کرتے ہوئے کہا، ’’پورے ملک سے خبر آ رہی ہے کہ SIR کی وجہ سے BLO پر بہت دباؤ پڑ رہا ہے۔ ہم بھی افسران کو فون کرتے ہیں تو وہ بتاتے ہیں کہ ہم ابھی SIR کے کام میں مصروف ہیں۔ SIR پہلے جس طرح ہوتا تھا، گھر گھر جا کر سروے کے ذریعے، وہ اب نہیں ہو رہا، تو ایسے میں BLO پر کس قسم کا دباؤ پڑ رہا ہے، مجھے یہ سمجھ نہیں آ رہا۔‘‘

انہوں نے کہا، ’’پہلے بھی SIR ہوتا تھا تو اس کو درست کرنے کے لیے دو یا تین ماہ کی مدت دی جاتی تھی۔ اس کے بعد لسٹ شائع ہوتی تھی اور موقع دیا جاتا تھا، لیکن اس بار پوری کارروائی شفاف نہیں رہی، جو تشویشناک بات ہے۔‘‘

ہمارا آئین طے کرتا ہے لوگوں کی شہریت

رام بھدراچاریہ کے اس بیان کے بارے میں کہ سونیا گاندھی ہندوستانی نہیں ہیں، کانگریس لیڈر نے کہا، ’’ان کی نظر میں کون بھارتی ہے اور کون نہیں، اس کا کوئی مطلب نہیں۔ ہمارے یہاں لوگوں کی شہریت ہمارا آئین طے کرتا ہے، یہ کوئی فرد طے نہیں کر سکتا۔ سوچنے کو کوئی بھی کچھ بھی سوچ سکتا ہے۔ کل کو میں سوچوں کہ جانور بھی ملک کے شہری ہونے چاہئیں، کوئی کہنے لگے کہ جس کے بال سفید ہو جائیں، وہ شہری نہیں ہونا چاہیے۔ ایسے میں ان تمام باتوں کا کوئی مطلب نہیں ہے۔ ہمارے یہاں شہریت آئین اور شہریت ایکٹ طے کرتا ہے۔‘‘

سندیپ نے کی اجے رائے کے بیان کی حمایت

سندیپ دکشت نے یوپی کانگریس کی ریساتی صدر اجے رائے کے اس بیان کی بھی حمایت کی، جس میں کہا گیا کہ ہم سب رام بھکت ہیں، لیکن حکومت اسے اشتہار کی طرح پیش کر رہی ہے۔ دکشت نے کہا، ’’ہر آدمی بھکت ہے۔ حکومت مذہبی تقریبات میں مدد کرتی رہی ہے، لیکن اگر کوئی اسے اشتہار کی طرح پیش کرنے لگے تو یہ مذہب کی سیاست کاری ہو جاتی ہے، جو نہیں ہونی چاہیے۔‘‘

بھارت ایکسپریس۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read