آسٹریلیا کی سخت گیر دائیں بازو کی سیاست دان اور سینیٹر پالین ہینسن نے پیر کے روز اُس وقت ایوانِ بالا میں ہلچل مچا دی جب وہ مکمل سیاہ برقع پہن کر سینیٹ کے اجلاس میں پہنچی۔ ان کے اس غیر معمولی اقدام نے پارلیمنٹ میں شدید غصے اور احتجاج کی فضا پیدا کر دی، جس کے باعث ایوان کی کارروائی عارضی طور پر معطل کرنی پڑی۔
پالین ہینسن طویل عرصے سے عوامی مقامات پر چہرہ ڈھانپنے والے لباس، خصوصاً برقع پر پابندی کے مطالبات کرتی رہی ہیں۔ وہ اس وقت ایوان میں داخل ہوئیں جب انہیں برقع اور چہرے کو مکمل ڈھانپنے والے دوسرے نقابوں پر پابندی کے بل کو پیش کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ برقع پہن کر داخل ہونے کے فوراً بعد ایوان میں موجود ارکان برہم ہو گئے اور سخت رویے کے تحت ان سے برقع اتارنے کا مطالبہ کرتے رہے، مگر ہینسن نے حکم ماننے سے انکار کر دیا۔ نيو ساؤتھ ويلز کی سينيٹر مہرين فاروقی نے اس عمل کو “کھلا نسلی تعصب” قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایک منتخب نمائندہ کا یہ طرزِ عمل ناقابلِ قبول اور شرمناک ہے۔ مغربی آسٹریلیا کی آزاد رکنِ پارلیمنٹ فاطمہ پائمن نے بھی سخت ردعمل کا اظہار کیا اور اسے “انتہائی بے عزتی اور پارلیمانی اقدار کی توہین” قرار دیا۔
اقدام کو “سینیٹ کے خلاف ورزی” قرار دیا گیا
حکومت اور اپوزیشن، دونوں جانب سے ہینسن کے رویے پر شدید تنقید سامنے آئی۔ حکومت کی سینیٹ لیڈر پینی وونگ نے کہا کہ ہینسن کا یہ اقدام “آسٹریلوی سینیٹ کے رکن کے لائق نہیں”۔ انہوں نے یہ بھی تجویز پیش کی کہ اگر ہینسن اپنی ضد پر قائم رہیں اور برقع نہ اتاریں تو انہیں سیشن سے معطل کیا جائے۔ اپوزیشن کی ڈپٹی سینیٹ لیڈر اینی رسٹن نے بھی یہی مؤقف اپنایا اور پارلیمانی آداب کی خلاف ورزی پر سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔
ہینسن کے انکار پر ایوان کی کارروائی فوری طور پر معطل کر دی گئی۔ بعد ازاں سوشل میڈیا پلیٹ فارم فیس بک پر جاری بیان میں ہینسن نے کہا کہ انہوں نے یہ لباس اس لیے پہنا تھا کہ سینیٹ نے ان کے پیش کردہ بل پر بحث کرنے سے انکار کیا۔ انہوں نے لکھا کہ “اگر وہ چاہتے ہیں کہ میں یہ نہ پہنوں تو پھر اس پر پابندی لگائیں”۔ پالین ہینسن کی “ون نیشن پارٹی” کے سینیٹ میں چار ارکان ہیں اور وہ 1990 کی دہائی سے اپنے سخت گیر اینٹی امیگریشن نظریات اور اسلام مخالف مہمات کے لیے جانی جاتی ہیں۔ 2017 میں بھی انہوں نے پارلیمنٹ میں برقع پہن کر قومی سطح پر پابندی کا مطالبہ کیا تھا۔ ان کے اس تازہ ترین اقدام نے آسٹریلیا میں مذہبی آزادی، سیکولر اقدار اور سیاسی حدوں پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



