نئی دہلی: بھارت میں کھیلوں کے بنیادی ڈھانچے کی جدید ترقی کی سمت میں ایک بڑا قدم اٹھاتے ہوئے مرکزی حکومت نے دہلی کے تاریخی جواہر لعل نہرو اسٹیڈیم (جے ایل این اسٹیڈیم ) کو مکمل طور پر ازسرِ نو تعمیر کرکے ایک جدید ترین ہائی ٹیک اسپورٹس سٹی میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ ملک کی پہلی ایسی اسپورٹس سٹی ہوگی، جس میں بین الاقوامی معیار کے تربیتی مراکز، ملٹی اسپورٹس ارینا، ایلیٹ ایتھلیٹس کے لئے خصوصی ہاسٹل اور جدید ترین ٹیکنالوجی سے آراستہ اسپورٹس سائنس اور میڈیکل لیب شامل ہوں گی۔ حکام کے مطابق، بھارت 2036 اولمپکس کی میزبانی کے لیے مضبوط دعویدار کے طور پر سامنے آنا چاہتا ہے اور اسی سلسلے میں یہ فیصلہ اسپورٹس ڈھانچے کی عالمی سطح پر اپ گریڈیشن کے لیے ایک اسٹریٹیجک اور تاریخی قدم مانا جا رہا ہے۔
جواہر لعل نہرو اسٹیڈیم کا نیا سفر
102 ایکڑ سے زیادہ رقبے پر پھیلا جے ایل این اسٹیڈیم بھارت کی اسپورٹس تاریخ میں ایک بڑا نشان ہے، جو 1982 ایشین گیمز اور 2010 کامن ویلتھ گیمز کا اہم مرکز رہا ہے۔ وزارتِ کھیل کے ذرائع کے مطابق اسٹیڈیم کی موجودہ ساخت نہ تو استعمال کے لحاظ سے جدید تقاضوں پر پوری اترتی ہے اور نہ ہی اب یہ اعلیٰ معیار کی اسپورٹس ٹریننگ کے تقاضوں کو پورا کرتا ہے۔ اسی لیے منصوبہ بنایا گیا ہے کہ موجودہ اسٹیڈیم کو مکمل طور پر ڈسمینٹل کرکے، نئی بنیادوں پر جدید ترین شہر نما اسپورٹس کمپلیکس تعمیر کیا جائے۔
منصوبے کے مطابق نئی اسپورٹس سٹی میں شامل ہوں گے:
عالمی معیار کا ملٹی اسپورٹس ارینا
جدید ترین ہائی پرفارمنس سینٹر
کھلاڑیوں کے لیے ایلیٹ ایتھلیٹ ہاسٹل (رہائش، ڈائٹنگ، ریہیب)
اسپورٹس سائنس اور بائیو میکانکس لیب
انڈور ایریاز: بیڈمنٹن، ہاکی، ٹینس، انڈور فٹبال
اینالٹکس اور ڈیجیٹل ٹریننگ ٹیکنالوجی
چھوٹا کمرشل زون، کیفے، اسپورٹس میڈیکل کلینک، رٹیل آؤٹ لیٹس
زیر زمین پارکنگ، جدید ٹرانسپورٹ کنیکٹیویٹی اور اسمارٹ انٹری و ایگزٹ گیٹس
وزارت کا کہنا ہے کہ منصوبے کے مکمل ہونے کے بعد یہ صرف نیا اسٹیڈیم نہیں بلکہ ’’مکمل اسپورٹس سٹی‘‘ ہوگا، جو کھلاڑیوں اور عوام دونوں کے لیے کھلا رہے گا اور یہاں ہر عمر کے لوگ کھیل اور فٹنس سرگرمیوں میں شریک ہو سکیں گے۔
اسپورٹس سٹی کا ماحول دوست ڈیزائن
اس پروجیکٹ کو مکمل طور پر ایکو فرینڈلی ڈیزائن کیا جا رہا ہے۔ اس میں شامل ہوں گے:
سولر انرجی جنریشن سسٹم
رین واٹر ہارویسٹنگ پلانٹ
ماحول دوست تعمیراتی مواد
کم توانائی خرچ کرنے والے ڈھانچے
سمارٹ ویسٹ مینجمنٹ سسٹم
حکام کا کہنا ہے کہ یہ پروجیکٹ مستقبل کو نظر میں رکھ کر بنایا جا رہا ہے، تاکہ بھارت دنیا کے پائیدار اسپورٹس انفراسٹرکچر میں بھی مثال بن سکے۔
2036 اولمپکس کی میزبانی کی کوشش
بھارت نے آفیشل طور پر اعلان کیا ہے کہ وہ 2036 اولمپک کھیلوں کی میزبانی کی دوڑ میں شامل ہے۔ ایسے میں ایک عالمی معیار کی اسپورٹس سٹی کا قیام بین الاقوامی اولمپک کمیٹی پر مثبت اثر ڈال سکتا ہے۔ منصوبے کے مطابق یہ شہر صرف ایک بڑا اسٹیڈیم نہیں، بلکہ ملٹی ڈسپلن اسپورٹس ہب ہوگا، جہاں ایشیا اور دنیا کی اہم اسپورٹس چیمپئن شپ منعقد کی جا سکیں گی۔
اسپورٹس کمیونٹی کا ردعمل
کھلاڑیوں، کوچز اور نیشنل لیول اسپورٹس فیڈریشن نے اس فیصلے کو تاریخی قرار دیا ہے۔
ایتھلیٹ کوچ سنجیو کمار نے کہا کہ ”یہ قدم بھارت کے اولمپک اسٹرکچر کو نئی زندگی دے گا۔ جدید سہولیات کھلاڑی کی کارکردگی میں براہ راست اضافہ کرتی ہیں۔ یہ ہمارے مستقبل کے لیے ایک گیم چینجر ہے“۔ ایتھلیٹ سونم کا کہنا ہے کہ “اگر بین الاقوامی سطح کی سہولیات یہاں ملتی ہیں، تو یہ ہمارے لیے خواب پوری ہونے جیسا ہوگا۔ ٹیکنالوجی اور اسپیشلائزڈ ٹریننگ ہی ہمیں عالمی مقابلوں میں کامیابی دلا سکتی ہے“۔ ایتھلیٹ بھاونا نے کہا کہ “ہمیں ایسی جگہ چاہیے جہاں ٹریننگ، اینالٹکس، میڈیکل کیئر اور رہائش سب ایک ہی کیمپس میں ہو۔ یہ منصوبہ اسی سمت میں بڑا قدم ہے“۔ مقامی رہائشی اور بزرگ شہریوں نے بھی جذباتی ردعمل ظاہر کیا۔ دلشاد احمد نے کہا کہ “اس اسٹیڈیم سے بہت سی یادیں وابستہ ہیں۔ اسے ٹوٹتا دیکھ کر دکھ ضرور ہے، مگر اگر نئی نسل کے لیے کچھ بڑا بن رہا ہے تو یہ خوشی کی بات ہے“۔
پبلک-پرائیویٹ پارٹنر شپ کے ذریعے تعمیر
اس پروجیکٹ کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (پی پی پی) ماڈل پر تیار کیا جائے گا، تاکہ حکومت پر مالی بوجھ کم ہو اور بڑے سرمایہ کار اور اسپورٹس کمپنیوں کو حصہ مل سکے۔ رپورٹس کے مطابق رئیل اسٹیٹ کمپنیاں، اسپورٹس انڈسٹری گروپس اور کئی کارپوریٹ ادارے اس منصوبے میں دلچسپی ظاہر کر رہے ہیں۔
قوم کی نظریں اس پروجیکٹ پر
ابھی اس پروجیکٹ کا حتمی بلیو پرنٹ منظر عام پر نہیں آیا ہے، مگر تیاریوں کے اشارے واضح ہیں۔ ملک بھر میں کھلاڑی اور عوام بے چینی سے انتظار کر رہے ہیں کہ یہ میگا پروجیکٹ کب شروع ہوگا اور کب دنیا کے سامنے اپنی مکمل شکل میں آئے گا۔ ماہرین کے مطابق اگر یہ منصوبہ کامیابی سے مکمل ہو گیا تو دہلی ایشیا کا سب سے بڑا اسپورٹس مرکز بن سکتا ہے اور بھارت پہلی بار عالمی اسپورٹس انفراسٹرکچر کی ریس میں امریکہ، چین اور یورپ کے مقابل کھڑا ہوگا۔
جواہر لعل نہرو اسٹیڈیم سے ہائی ٹیک اسپورٹس سٹی تک کا سفر
جواہر لعل نہرو اسٹیڈیم سے ہائی ٹیک اسپورٹس سٹی تک کا سفر صرف ایک تعمیراتی تبدیلی نہیں، بلکہ بھارت کے اسپورٹس مستقبل کی نئی بنیاد ہے۔ یہ نہ صرف کھلاڑیوں کے لیے عالمی معیار کی سہولیات فراہم کرے گا بلکہ بھارت کو عالمی کھیلوں کا ابھرتا ہوا مرکز بنانے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔ اب سب کی نظریں اس بات پر ہیں کہ یہ میگا پروجیکٹ کب حتمی شکل اختیار کرتا ہے اور کب بھارت کا خواب حقیقت بنتا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔




