ہریانہ میں سائبر فراڈ کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ سال 2024 کے دوران ریاست کو ڈیجیٹل دھوکہ دہی کے باعث 850 کروڑ روپے سے زیادہ کا مالی نقصان برداشت کرنا پڑا، جب کہ صرف گروگرام ضلع میں ہی مجموعی معاملات کا 20 فیصد حصہ درج ہوا۔ یہ اعداد و شمار پی ایس سائبرمانیسر کے سب انسپکٹر شری وکاس بنیوال نے ’’ناک آؤٹ ڈیجیٹل فراڈ‘‘ کے عنوان سے منعقدہ قومی بیداری پروگرام میں پیش کیے، جو ہریانہ پولیس اور بجاج فائنا نس لمیٹڈ کی مشترکہ کاوش تھی، اور جس کا انعقاد گورنمنٹ کالج سدھرولی میں کیا گیا۔ اس پروگرام میں تقریباً 250 طلبہ اور فیکلٹی ارکان نے شرکت کی۔
شری بنیوال نے مختلف اقسام کی دھوکہ دہی پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ عوام کے فراڈ کا شکار ہونے کی سب سے بڑی وجہ لاعلمی، لالچ اور خوف ہے۔ فراڈ کرنے والے ’’ڈیجیٹل اریسٹ‘‘، ’’انویسٹمنٹ اسکیم‘‘ اور ’’ٹاسک بیسڈ فراڈ‘‘ جیسے طریقے استعمال کر کے متاثرہ افراد کو ذہنی طور پر الجھا دیتے ہیں اور ان کی زندگی بھر کی کمائی لوٹ لیتے ہیں۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ ’’جب بھی کوئی آپ سے پیسے یا بینک کی تفصیل مانگے تو بلا جھجھک سمجھ لیں کہ وہ فراڈ کرنے والا ہے۔ اصل حفاظت صرف بیداری میں ہے‘‘۔
انہوں نے مزید بتایا کہ سال 2024 میں گروگرام میں 25 ہزار سے زیادہ سائبر کرائم کے مقدمات درج ہوئے۔ سائبر فراڈ کی صورت میں فوری طور پر شکایت درج کرانا نہایت ضروری ہے، کیونکہ ابتدائی تین گھنٹے ایسے معاملات میں ’گولڈن پیریڈ‘ سمجھے جاتے ہیں، جن میں کامیابی کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ مختلف کارروائیوں میں اب تک 5 ہزار گرفتاریاں عمل میں لائی جا چکی ہیں۔
ہریانہ پولیس نے مالی سال 2024-2025 میں سائبر فراڈ کے معاملات سے 100 کروڑ روپے کی ریکوری کی ہے۔ پورے ملک میں اسی مدت میں 22,800 کروڑ روپے سے زیادہ کا نقصان رپورٹ ہوا، جو گزشتہ سال کے مقابلے تقریباً 40 فیصد زائد ہے۔
پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے پی ایس سائبر مانیسر کے اسسٹنٹ سب انسپکٹر شری راجیش پال نے کہا کہ ’’ہمارا ملک ترقی کر رہا ہے، اور جیسے جیسے ہم مضبوط ہو رہے ہیں، سائبر فراڈ ایک معاشی جنگ کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ اس لیے قومی سطح پر بیداری مہم انتہائی ضروری ہے۔ عوام کو چاہیے کہ پُرکشش آفرز، مشکوک لنکس اور سوشل میڈیا کے جال سے بچیں ‘‘۔
اسی طرح اسسٹنٹ سب انسپکٹر شری ستیندر کمار نے کہا کہ ’’آج سائبر فراڈ ایک منظم کاروبار بن چکا ہے، جو مختلف کلusters کے ذریعے چلایا جاتا ہے۔ اگر کبھی آپ کو فراڈ کا شبہ ہو تو فوراً 1930 پر کال کریں۔ اپنے اکاؤنٹس کی معلومات شیئر نہ کریں، مشکوک APK فائلوں اور ایک نمبر کو ہر جگہ لنک کرنے سے پرہیز کریں‘‘۔
گورنمنٹ کالج سدھرولی کے پروفیسر پی کے ملک نے کہا کہ ملک کا نوجوان طبقہ سائبر جرائم کے خلاف بیداری پھیلانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
بجاج فائناس لمیٹڈ ملک کی سب سے بڑی نجی نان بینکنگ فنانشل کمپنی ہے، جو ملک بھر میں مالیاتی خواندگی اور سائبر فراڈ آگاہی مہم چلا رہی ہے، تاکہ ڈیجیٹل یوزر کو خطرات اور مالیاتی تحفظ کے طریقوں سے آگاہ کیا جا سکے۔ یہ مہم آر بی آئی کی 2024 کی ہدایات کے عین مطابق ہے، جن میں ابتدائی شناخت، ذمہ داری اور عوامی شمولیت پر زور دیا گیا ہے۔
اس آگاہی پروگرام میں شہریوں کو ذاتی اور حساس معلومات کی حفاظت کے اہم طریقے بتائے گئے، جن میں OTP اور PIN شیئر نہ کرنا، مشکوک ای میل، ایس ایم ایس، لنکس اور QR کوڈ سے بچنا شامل ہیں۔ اس کے علاوہ کمیونٹی ریچ آؤٹ، ورکشاپس اور آگاہی ڈرائیوز بھی منعقد کی جا رہی ہیں۔ یہ مہم ان فراڈ طریقوں پر بھی روشنی ڈالتی ہے جو فرضی سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور ویب سائٹس کے ذریعے کیے جاتے ہیں، جو فنانشل کمپنیوں کا جھوٹا روپ دھار کر عوام کو نشانہ بناتے ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


