Bharat Express DD Free Dish

Hardeep Singh Puri and South Korean Firms : پانچ سال میں بھارت ایک ’گلوبل میری ٹائم شپنگ ہب‘ بن جائے گا: ہر دیپ سنگھ پوری

مرکزی وزیر برائے پیٹرولیم و قدرتی گیس ہردیپ سنگھ پوری نے کہا ہے کہ بھارت تیزی سے گلوبل میری ٹائم اور شپنگ سیکٹر میں ابھرتا ہوا قائد بن رہا ہے اور آئندہ پانچ سال میں ملک کو ایک ’گلوبل میری ٹائم شپنگ ہب‘ کے طور پر قائم کر دیا جائے گا۔

مرکزی وزیر برائے پیٹرولیم و قدرتی گیس ہردیپ سنگھ پوری نے کہا ہے کہ بھارت تیزی سے گلوبل میری ٹائم اور شپنگ سیکٹر میں ابھرتا ہوا قائد بن رہا ہے اور آئندہ پانچ سال میں ملک کو ایک ’گلوبل میری ٹائم شپنگ ہب‘ کے طور پر قائم کر دیا جائے گا۔ مرکزی وزیر نے ہفتہ کو یہ جانکاری اس وقت دی جب انہوں نے جنوبی کوریا کے شہر جیو جے میں واقع ہنوا اوشن کی وسیع الشان شپ بلڈنگ فیسلٹی کا دورہ کیا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ دنیا کی تیزی سے بڑھتی ہوئی معیشت بھارت ہر سیکٹر میں مضبوط ترقی کے ساتھ توانائی کے شعبے میں بھی نمایاں کامیابیاں حاصل کر رہا ہے۔ وزیر کے مطابق، وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں ’وِکست بھارت‘ (ترقی یافتہ بھارت) کے سفر میں عالمی سرمایہ کاری اور شراکت داری کے بڑے مواقع سامنے آئے ہیں۔

ہردیپ سنگھ پوری نے مزید کہا کہ جنوبی کوریا کی شپنگ کمپنیاں جہاں جدید ٹیکنالوجی، تجربہ اور صلاحیت رکھتی ہیں، وہیں بھارت کے پاس زبردست طلب، ہنر مند افرادی قوت اور ’میک ان انڈیا‘ سے منسلک بہترین پالیسیاں موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان شپ بنانے کے شعبے میں تعاون ایک غیر معمولی اور باہمی فائدہ مند شراکت داری ثابت ہو سکتا ہے۔ مرکزی وزیر کے مطابق، ’’یہ بہترین وقت ہے، اور شپ بلڈنگ کے میدان میں باہمی تعاون نہ صرف عالمی تقاضوں کو پورا کرنے میں مددگار ثابت ہوگا بلکہ اگلے پانچ برسوں میں ہم اپنے ویزلز کی لاگت بھی وصول کر لیں گے اور بھارت کو ایک عالمی میری ٹائم شپنگ مرکز کے طور پر قائم کر دیں گے۔‘‘

انہوں نے بتایا کہ بھارت نے شپ بلڈنگ سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لیے کئی اہم پالیسی اقدامات کیے ہیں جن میں بھارت میں تیار شدہ جہازوں کے لیے 15 سے 25 فیصد کیپٹل سپورٹ، شپ ری سائیکلنگ کے لیے 5 فیصد اضافی ترغیب، میرین ڈیولپمنٹ فنڈ کے ذریعے ایکویٹی فنانسنگ، 3 فیصد سود سبسڈی، اور گرین فیلڈ شپ یارڈ سمیت صنعت سے متعلق کلسترز کے لیے انفراسٹرکچر سپورٹ شامل ہیں۔

مرکزی وزیر نے مزید کہا کہ توانائی کے شعبے کی سرکاری کمپنیاں ہر سال تقریباً 5 تا 8 ارب امریکی ڈالر مال برداری پر خرچ کرتی ہیں اور انہیں مسلسل 59 نئے ویزلز کی ضرورت رہتی ہے۔ اس لیے ہنوا اوشن جیسی بڑی عالمی کمپنیاں بھارت کے ساتھ مل کر جہاز سازی میں ایک عظیم تجارتی موقع حاصل کر سکتی ہیں۔ سیاسی و صنعتی ماہرین کے مطابق، شپ بلڈنگ اور میری ٹائم سیکٹر میں یہ پیش رفت بھارت کو عالمی تجارت کا ایک مضبوط مرکز بنانے کی جانب اہم قدم ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read