بہار کے سابق وزیر تیج پرتاپ یادو کا بھائی تیجسو ی یادو کے ساتھ تنازعہ اب واضح طور پر نظر آنے لگا ہے۔ تیج پرتاپ اپنے چھوٹے بھائی تیجسو ی یادو کو نیٹ ورکنگ سائٹ ایکس پر بھی فالو نہیں کرتے۔ اس دوران انہوں نے مہوا اسمبلی کی عوام سے اپنی وابستگی کا اظہار کیا ہے۔
صرف مہوا کی عوام سے مطلب
تیج پرتاپ یادو نے اتوار کو پٹنہ میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ انہیں کسی اور سے کوئی مطلب نہیں، انہیں صرف مہوا کی عوام سے مطلب ہے۔ انہوں نے کہا کہ چونکہ انتخابی ماحول ہے، اس لیے لیڈران علاقوں اور عوام کے درمیان جاتے ہیں۔ مہوا کے رکن اسمبلی مکیش روشن سے متعلق انہوں نے کہا کہ وہ غیر ضروری افراد کے نام نہیں لینا چاہتے۔ کون سرگرم ہے، کون نہیں، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، مجھے صرف مہوا کی عوام سے مطلب ہے۔
امیدواروں کی فہرست کب جاری ہوگی؟
انہوں نے کہا کہ مہوا میں کس نے میڈیکل کالج بنایا، کس نے سڑک بنائی، یہ سب لوگ جانتے ہیں، یہ چھپانے والی بات نہیں ہے۔ اس دوران انہوں نے کاغذات نامزدگی داخل کرنے کی تاریخ کے بارے میں کہا کہ جب وہ نامزدگی کریں گے تو بتائیں گے۔ اس موقع پر انہوں نے تیجسو ی یادو کو ان فالو کرنے کے بارے میں کوئی واضح جواب نہیں دیا۔ اس سے پہلے، نئی قائم شدہ جن شکتی جنتا دل (جے جے ڈی) کے لیڈر تیج پرتاپ یادو نے اعلان کیا تھا کہ ان کی پارٹی 13 اکتوبر کو امیدواروں کی فہرست جاری کرے گی۔
تیج پرتاپ کہاں سے انتخاب لڑیں گے؟
یاد رہے کہ تیج پرتاپ یادو کو ایک فیس بک پوسٹ پر تنازع کے بعد اخلاقی اور سماجی اقدار کے خلاف جانے کے الزام میں پارٹی سربراہ لالو یادو نے پارٹی اور خاندان سے باہر کردیا تھا۔ پارٹی سے نکالے جانے کے بعد انہوں نے جن شکتی جنتا دل بنائی۔ تیج پرتاپ نے بہار اسمبلی انتخابات میں مہوا سے انتخاب لڑنے کا اعلان کیا ہے۔ اس وقت وہاں مکیش روشن راشٹریہ جنتا دل کے رکن اسمبلی ہیں۔ بہار اسمبلی انتخابات کا پہلا مرحلہ 6 نومبر کو اور دوسرا مرحلہ 11 نومبر کو ہوگا۔ ووٹوں کی گنتی 14 نومبر کو ہوگی۔اس انتخاب میں اہم مقابلہ بھارتیہ جنتا پارٹی اور جنتا دل (یونائیٹڈ) کے زیر قیادت این ڈی اے اور راشٹریہ جنتا دل کے تیجسو ی یادو کی قیادت میں عظیم اتحاد کے درمیان متوقع ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
