نئی دہلی: آج قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے زیر اہتمام وزیراعظم میوزیم، تین مورتی مارگ، نئی دہلی میںVeer Savarkar: The Man Who Could Have Prevented Partition کے اردو ترجمہ ’ویر ساورکر اور تقسیمِ ہند کا المیہ‘کی تقریبِ اجرا ومذاکرے کا انعقاد عمل میں آیا۔اس موقعے پرصدارتی خطاب کرتے ہوئے وزیرمملکت براے قانون وانصاف (آزادانہ چارج) وپارلیمانی امورارجن رام میگھوال نے کہا کہ ویر ساورکرایک بڑے مجاہد آزادی تھے، جنھوں نے اس ملک کی آزادی کی جدوجہد میں بھرپورحصہ لیا اورطویل عرصے قید وبند کی صعوبتیں برداشت کیں، آج ہم ایسی ہی شخصیات کی قربانیوں کی بدولت آزاد بھارت میں سانس لے رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ویر ساورکر قومی ایکتا واکھنڈتا کے تئیں نہایت حساس تھے اوراسی وجہ سے وہ تقسیمِ ہند کے شدید مخالف تھے، اگران کے وژن اورمنصوبے پرعمل کیا جاتا توملک کوٹوٹنے سے بچایا جا سکتا تھا۔ انھوں نے کہا کہ آزادی کے بعد ایک خاص مقصد کے تحت ویرساورکرکوبدنام کرنے کی کوششیں کی گئیں، ان کے افکارونظریات کوتوڑمروڑکرپیش کیا گیا، جوکہ نہایت افسوسناک تھا۔ ہمیں خوشی ہے کہ آج پورے ملک میں ویرساورکرکے افکارونظریات کوسمجھنے کی سنجیدہ کوششیں شروع ہوئی ہیں، اودے ماہورکراورچرایوپنڈت جی کی کتاب اسی سلسلے کی سنہری کڑی ہے، جس کے اردو ترجمے کا آج اجرا کیا گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اردو زبان میں اس کتاب کی اشاعت سے ہمارے مسلم بھائیوں بہنوں اوراردو جاننے والوں تک بھی یہ کتاب پہنچے گی اوراس کے مطالعے سے بہت سی غلط فہمیاں دورہوں گی، میں اس کتاب کے مترجم پروفیسرمظہرآصف جی اورڈاکٹرمسعود عالم جی کو مبارکباد پیش کرتا ہوں اوراس ترجمے کی اشاعت پرقومی اردوکونسل اوراس کے ڈائنامک ڈائریکٹرڈاکٹرشمس اقبال کوخاص طورپردلی تہنیت پیش کرتا ہوں، جو پورے ملک میں اردو کے پرچارپرسارکے ساتھ نئی نسل کو جدید تکنیکی تعلیم سے بھی جوڑنے کے لیے کوشاں ہیں۔
مہمانِ اعزازی اور کتاب کے مصنف اودے ماہورکرنے اظہارخیال کرتے ہوئے کہا کہ اس کتاب میں آزاد ہندوستان کی تاریخ میں پہلی بارویرساورکرکے حوالے سے سچی اورغیرجانبدارانہ معلومات پیش کی گئی ہیں اوران تمام غلط فہمیوں کوتاریخی حقائق کی روشنی میں دورکرنے کی کوشش کی گئی ہے، جومخصوص سیاسی نظریے کے تحت پھیلائی گئی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ قومی اتحاد اورملک کی خوشحالی وترقی کے بارے میں ویرساورکر کے جونظریات تھے، ان پرعمل کرکے ہم وشوگروبن سکتے ہیں اورساتھ ہی داخلی وخارجی چیلنجزکا مقابلہ بھی کرسکتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اس کتاب میں پختہ دلائل کی روشنی میں ساورکرکے ہندوتوکے نظریے کا جائزہ لینے کے ساتھ مسلمانوں کے تعلق سے ان کی اصل فکرکوپیش کیا گیا ہے اوربتایا گیا ہے کہ ساورکرقومی جدوجہد میں حصہ لینے والے تمام انقلابیوں اورمجاہدینِ آزادی کا احترام کرتے تھے اوراس ملک کی ہمہ گیرترقی کے سفرمیں مسلمانوں سمیت تمام سماجی طبقات کی شمولیت کونہایت ضروری سمجھتے تھے۔
اس سے قبل استقبالیہ کلمات پیش کرتے ہوئے کونسل کے ڈائرکٹرڈاکٹرشمس اقبال نے تمام معززمہمانوں کا خیرمقدم کیا اورکہا کہ قومی اردوکونسل وزارتِ تعلیم کے تحت سرگرم قومی سطح کا ادارہ ہے،جو پورے ملک میں اردو زبان کی ترویج و اشاعت کے لیے مختلف اسکیمیں چلا رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ کونسل مختلف ادبی، سماجی، طبی وسائنسی موضوعات پر اب تک دو ہزارسے زائد ٹائٹلس شائع کرچکی ہے جن میں بہت سی اہم کتابوں کے تراجم بھی شامل ہیں۔ ’ویرساورکراورتقسیمِ ہند کا المیہ‘ بھی اسی اسکیم کے تحت شائع کی گئی ہے، جواردولٹریچرمیں گراں قدر اضافہ ہے۔ ڈاکٹرشمس اقبال نے کہا کہ یہ نہ صرف کونسل کے لیے بلکہ پوری اردو دنیا کے لیے ایک اہم موقع ہے، کیوں کہ اب تک اردو زبان میں ویرساورکرپرمستند اورغیرجانبدارانہ حقائق پرمبنی کتاب کی شدید کمی محسوس کی جارہی تھی،جسے قومی اردوکونسل نے دور کرنے کی کوشش کی ہے۔ مجھے امید ہے کہ اردوآبادی اس کتاب کا ضرورمطالعہ کرے گی اورآزاد ہندوستان کےغیرجانبدارانہ تاریخی بیانیے اورتحقیق وتفتیش پرمبنی جہت سے آگاہی حاصل کرے گی۔
مہمانِ اعزازی، جامعہ ملیہ اسلامیہ کے وائس چانسلر اورکتاب کے مترجم پروفیسرمظہرآصف نےاظہارِخیال کرتے ہوئے کہا کہ یہ کتاب ویرساورکرکی شخصیت اورقومی ترقی واتحاد کے ان کے وژن کا دقیق ومبسوط جائزہ پیش کرتی ہے اوراپنے مشمولات کے اعتبارسے یہ ایک جامع اوردلچسپ کتاب ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس کتاب کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں ویرساورکرکے تعلق سے پھیلائے گئے تمام مغالطوں کا دلائل وشواہد کی روشنی میں جائزہ لیا گیا ہے، جن سے ہرہندوستانی کوواقف ہونا چاہئے۔ کتاب کے شریک مصنف چرایوپنڈت اورشریک مترجم ڈاکٹرمسعود عالم نے بھی اظہارخیال کیا اوراس موقع پرتمام مہمانوں کا شال، مومنٹو اورکتابیں پیش کرکے استقبال کیا گیا۔ نظامت کے فرائض ایڈوکیٹ ابھے شاہ نے انجام دیئے۔ پروگرام میں کثیرتعداد میں دانشوران، جامعات کے اساتذہ، میڈیا اہلکار، ریسرچ اسکالرزاورطلبہ وطالبات نے شرکت کی۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
