Urdu Conclave 2026

Amit Shah hails New Criminal Laws: وزیر داخلہ امت شاہ  نے نئے فوجداری قوانین کو اکیسویں صدی کی سب سے بڑی اصلاح قراردیا، کہا-شہریوں کی عزت اور انصاف اولین ترجیح

امت شاہ نے وضاحت کی کہ اب پولیس طاقت یا تھرڈ ڈگری تشدد کے بجائے سائنسی شواہد پر انحصار کرے گی۔ نئے قوانین کے تحت پولیس، جیل، عدلیہ، استغاثہ اور فرانزک کے پانچ ستونوں کو آن لائن مربوط کر دیا گیا ہے۔

کرکشیتر(ہریانہ)–مرکزی وزیرداخلہ امت شاہ نے کہا ہے کہ یکم جولائی 2024 سے نافذ ہونے والے تین نئے فوجداری قوانین ہندوستان کی قانونی تاریخ میں سنگِ میل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ جمعہ کو کرکشیتر میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے ان قوانین کو ’’اکیسویں صدی کی سب سے بڑی اصلاح‘‘ قرار دیا۔

وزیراعظم مودی کے رہنما اصولوں پر مبنی قوانین

امت شاہ نے کہا کہ یہ قوانین وزیراعظم نریندر مودی کے رہنما اصول ’’شہری پہلے، عزت پہلے اور انصاف پہلے‘‘ کے تحت تشکیل دیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان قوانین میں کئی نئی دفعات متعارف کرائی گئی ہیں تاکہ عدالتی نظام کو سزا کے بجائے انصاف پر مرکوز کیا جا سکے۔

پولیس اور انصاف کے نظام میں سائنسی بنیاد

امت شاہ نے وضاحت کی کہ اب پولیس طاقت یا تھرڈ ڈگری تشدد کے بجائے سائنسی شواہد پر انحصار کرے گی۔ نئے قوانین کے تحت پولیس، جیل، عدلیہ، استغاثہ اور فرانزک کے پانچ ستونوں کو آن لائن مربوط کر دیا گیا ہے۔ ان کے مطابق یہ تبدیلیاں مجرموں کو سزا دینے سے زیادہ انصاف دلانے پر توجہ دیتی ہیں۔

نوآبادیاتی دور کے قوانین کا خاتمہ

اس پروگرام کا موضوع تھا: ’’محفوظ سماج، ترقی یافتہ بھارت – سزا سے انصاف تک‘‘۔ یہ تینوں قوانین–’بھارتیہ نیائے سنہتا‘، ’بھارتیہ ناگرك سرکشا سنہتا‘ اور’بھارتيہ ساکشیہ ادھینیم‘ – بالترتیب برطانوی دور سے نافذ بھارتی تعزیری قانون (IPC)، فوجداری ضابطہ کار (CrPC) اور قانون شہادت (Indian Evidence Act) کی جگہ لائے گئے ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read