Bharat Express DD Free Dish

Imran Khan Accuses Gen Asim Munir of Mental Torture: ’’جنرل عاصم منیر مجھے جھکانے کے لیے سخت ذہنی اذیت دے رہے ہیں‘‘، عمران خان نے پاکستانی آرمی چیف پر لگائے سنگین الزام

عمران خان نے مزید کہا کہ جنرل منیر نے آرمی چیف بننے کے بعد افغانستان کے ساتھ تعلقات خراب کرنے کی دانستہ کوشش کی، افغان شہریوں کو ملک بدر کیا، ڈرون حملے کروائے اور ایسے اقدامات کیے جن سے خطے میں کشیدگی بڑھی۔

اکستان کے سابق وزیرِاعظم اور تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان نے الزام عائد کیا ہے کہ آرمی چیف جنرل عاصم منیر انھیں اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو اڈیالہ جیل میں شدید ذہنی اذیت کا نشانہ بنا رہے ہیں تاکہ وہ جھک جائیں اور ہتھیار ڈال دیں۔ عمران خان، جو دو سال سے زائد عرصے سے مختلف مقدمات میں قید ہیں، اس وقت اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی بھی رواں برس ’’القادر ٹرسٹ‘‘ کیس میں سزا سنائے جانے کے بعد ان کے ساتھ جیل میں قید ہیں۔عمران خان نے جمعہ کے روز ایک پیغام میں کہا کہ ’’ہم پر جو ذہنی اذیت مسلط کی جا رہی ہے، اس کے پیچھے صرف ایک شخص ہے–جنرل عاصم منیر۔ مقصد صرف ہمیں توڑنا اور جھکانا ہے۔‘‘

عمران خان نے کہا کہ ’’میرا پیغام عاصم منیر کے لیے ہے: جب تک ہم زندہ ہیں، یزید کے ظلم اور فرعون کے جبر کے سامنے سر نہیں جھکائیں گے۔‘‘ عمران خان نے جنرل منیر پر الزام لگایا کہ وہ ملک میں ’’لاقانونیت اور فسطائیت‘‘ کی فضا قائم کر رہے ہیں اور اپنی ’’غیرقانونی حکمرانی کو دس سال تک بڑھانے کی ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں‘‘۔ عمران خان نے مزید کہا کہ جنرل منیر نے آرمی چیف بننے کے بعد افغانستان کے ساتھ تعلقات خراب کرنے کی دانستہ کوشش کی، افغان شہریوں کو ملک بدر کیا، ڈرون حملے کروائے اور ایسے اقدامات کیے جن سے خطے میں کشیدگی بڑھی۔

انھوں نے کہا کہ ’’وہ خود کو مغرب میں ’مجاہد‘ کے طور پر پیش کرنا چاہتے ہیں تاکہ افغانستان کی موجودہ حکومت کے مخالف مغربی حلقوں کو یہ تاثر دیں کہ وہ دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑنے کے لیے موزوں ترین شخص ہیں۔‘‘ ملک کی معاشی صورت حال پر بات کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ جنرل منیر کی ’’ظالمانہ پالیسیوں‘‘ کے باعث پاکستان کی معیشت بدترین زوال کا شکار ہے اور غیرملکی سرمایہ کاری تقریباً ختم ہو چکی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’’تین سالوں میں قومی قرضہ دگنا ہو چکا ہے۔ آج ہر پاکستانی قرض کی دلدل میں دھنسا ہوا ہے۔ جب تک عوام کی نمائندہ حکومت نہیں آتی، معاشی بحران کا حل ممکن نہیں۔‘‘ انھوں نے اپنی پارٹی کے کارکنان کو 27 ستمبر کو پشاور میں ہونے والے جلسے کی بھرپور تیاری کی ہدایت بھی دی۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read