Bharat Express DD Free Dish

Mehbooba Urges Amit Shah to Revisit Yasin Malik’s Case: ’’یاسین ملک کے معاملے پر انسانی نقطۂ نظر سے کیا جائے غور‘‘، محبوبہ مفتی نے وزیر داخلہ امت شاہ کو لکھا خط

انھوں نے کہا کہ ایک ایسا شخص جس نے امن کا راستہ چُنا، اب مکمل خاموشی کے ساتھ جیل میں ہے اور اس کے خلاف سزائے موت کی کارروائی کا امکان بھی موجود ہے۔

سابق وزیر اعلیٰ جموں و کشمیر اور پی ڈی پی کی صدر محبوبہ مفتی نے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کو ایک خط لکھ کر جے کے ایل ایف کے سربراہ یاسین ملک کے کیس پر انسانی ہمدردی کی بنیاد پر نظرثانی کرنے کی اپیل کی ہے۔ یاسین ملک کو دہشت گردی کی مالی معاونت اور بھارت کے خلاف سازش کے الزام میں دہلی کی ایک این آئی اے عدالت نے عمر قید کی سزا سنائی ہے۔ محبوبہ مفتی نے اپنے خط میں لکھا کہ یاسین ملک کا ماضی میں تشدد چھوڑ کر سیاسی اور پُرامن جدوجہد کا راستہ اختیار کرنا ایک غیرمعمولی فیصلہ تھا، جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ انھوں نے کہا کہ ’’یہ خط مخالفت میں نہیں بلکہ مفاہمت کے یقین اور اس امید کے ساتھ لکھا گیا ہے کہ بھارت ایک عظیم ملک ہونے کے ناتے زخموں پر مرہم رکھنے کا راستہ اختیار کرے گا۔‘‘

محبوبہ مفتی نے لکھا کہ 1994 میں یاسین ملک نے ہتھیار چھوڑ کر سیاسی عمل میں شمولیت اختیار کی اور یہ فیصلہ بھارتی ایجنسیوں کے ساتھ بیک ڈور رابطوں کے تحت ہوا۔ محبوبہ مفتی کے مطابق یاسین ملک نے کئی سالوں تک حکام، خفیہ ایجنسیوں اور بعض متنازعہ شخصیات کے ساتھ بھارتی حکومت کی مرضی سے مذاکرات کیے اور اسے ایک ’’امن کے پُل‘‘ کے طور پر دیکھا جاتا رہا۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ یاسین ملک کو 32 زیر التواء TADA کیسز میں ضمانت ملی اور حکومت نے ان مقدمات کو آگے نہیں بڑھایا۔ تاہم اگست 2019 میں آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد صورت حال بدل گئی، پرانے مقدمات دوبارہ کھولے گئے، جے کے ایل ایف پر پابندی لگا دی گئی اور یاسین ملک کو عمر قید کی سزا دی گئی۔

انھوں نے کہا کہ ایک ایسا شخص جس نے امن کا راستہ چُنا، اب مکمل خاموشی کے ساتھ جیل میں ہے اور اس کے خلاف سزائے موت کی کارروائی کا امکان بھی موجود ہے۔ محبوبہ مفتی نے زور دیا کہ ملک کے سابق وزرائے اعظم اٹل بہاری واجپئی اور ڈاکٹر منموہن سنگھ نے بھی مکالمے کو ترجیح دی تھی اور آج بھی اسی کی ضرورت ہے۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ ’’ہم کشمیریوں کو مرکزی دھارے سے الگ رکھا گیا ہے اور ہمارے اعتماد کو بحال کیے بغیر پائیدار امن ممکن نہیں۔‘‘ انھوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ یاسین ملک کے کیس پر ہمدردانہ اور جمہوری اصولوں کے تحت از سر نو غور کیا جائے تاکہ امن و مفاہمت کا عمل بحال ہو سکے۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔