ٹی ایم سی کی رکن پارلیمنٹ مہوا موئترا۔ (فائل فوٹو)
ترنمول کانگریس کی رکن پارلیمنٹ مہوا موئترا نے مرکزی وزیرداخلہ امت شاہ کے بارے میں قابل اعتراض بیان دیا ہے۔ بیان دیتے ہوئے انہوں نے تمام حدیں پارکرتے ہوئے کہا کہ وزیرداخلہ کا سر کاٹ کرمیز پررکھ دیا جائے۔ مہوا موئترا نے یہ بیان بنگال میں غیرقانونی دراندازیوں سے متعلق کارروائی سے متعلق دیا ہے۔ اپنی تقریرمیں، انہوں نے دلیل دی کہ غیر قانونی مداخلت کی ذمہ داری پوری طرح مرکزی حکومت اوراس کی ایجنسیوں پرعائد ہوتی ہے۔
مہوا موئترا نے کہا، ’’میرا ان سے واضح سوال ہے۔ وہ صرف کہے جا رہے ہیں دراندازی کرنے والا… دراندازی کرنے والا… درانداز۔ ہماری سرحد کی حفاظت کرنے والی ایجنسی مرکزی وزارت داخلہ کے تحت آتی ہے۔ وزیراعظم نے 15 اگست کو لال قلعہ سے کہا کہ دراندازی ہو رہی ہے اوراس کی وجہ سے ڈیموگرافی بدل رہی ہے۔ جب وزیراعظم یہ کہہ رہے تھے توپہلی قطار میں بیٹھے وزیرداخلہ ان کی بات سن کر ہنس رہے تھے اورتالیاں بجا رہے تھے۔‘‘
انہوں نے کہا، ’’اگرہندوستان کی سرحدوں کی حفاظت کرنے والا کوئی نہیں ہے۔ اگردوسرے ملکوں کے لوگ روزانہ سیکڑوں، ہزاروں اور لاکھوں کی تعداد میں گھس رہے ہیں اورہماری ماؤں بہنوں پرنظرڈال رہے ہیں، ہماری زمینیں چھین رہے ہیں، توپہلے آپ کو امت شاہ کا سر کاٹ کرٹیبل (میز) پررکھ دینا چاہئے۔‘‘
مہوا نے بی ایس ایف پربھی اٹھائے سوال
یہ تنازعہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے، جب مودی حکومت نے ہندوستان میں مقیم بنگلہ دیش سے روہنگیا اورغیرقانونی تارکین وطن کو نکالنے کے لیے ‘آپریشن پُش بیک’ شروع کیا ہے۔ مہوا موئترا نے بارڈرسیکورٹی فورسیز(بی ایس ایف) پرسوال اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ بی ایس ایف یہاں ہے۔ بی ایس ایف کیا کررہی ہے؟ ہم (مقامی) بی ایس ایف سے ڈرتے ہیں۔ ہمیں یہاں (بنگال میں) کسی کی دراندازی نظرنہیں آتی۔ ان کے تبصروں سے ظاہرہوتا ہے کہ سرحدی حفاظت میں بی ایس ایف کا کردارمغربی بنگال کے مقامی لوگوں کی زمینی حقیقت سے میل نہیں کھاتا۔’ مہوا موئترا کے بیان سے متعلق سندیپ مجومدارنامی بی جے پی کارکن نے نادیہ کوتوالی پولیس اسٹیشن میں تحریری شکایت درج کرائی ہے اوران کے خلاف کارروائی کرنے کی اپیل کی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

