Bharat Express DD Free Dish

Famine is confirmed in Gaza: قحط نے غزہ شہر کو اپنی لپیٹ میں لے لیا،اسرائیلی وزارت خارجہ کی قحط کی تردید

آئی پی سی نے کہا کہ بھوک امداد کی ناکہ بندی سے پیدا ہوئی اور غزہ میں بڑے پیمانے پر رپورٹ میں کہا گیا کہ غزہ میں نصف ملین سے زیادہ لوگوں کو بھوک کی تباہ کن قلت کا سامنا ہے۔

اقوامِ متحدہ کے ایک درجہ بندی نظام نے (جو خوراک تک رسائی کا تعین کرتا ہے) باضابطہ طور پر غزہ میں قحط کا اعلان کر دیا ہے، انٹیگریٹڈ فوڈ سیکیورٹی فیز کلاسیفکیشن (آئی پی ایس) کے مطابق 5 لاکھ سے زائد فلسطینی تباہ کُن قحط کی حالت کا سامنا کر رہے ہیں، جس میں بھوک، افلاس اور موت شامل ہیں۔

یہی درجہ بندی ستمبر کے آخر تک وسطی غزہ کے دیر البلاح اور جنوبی غزہ کے خان یونس تک بڑھنے کا امکان ہے، جس کے نتیجے میں پورے غزہ میں 5 لاکھ سے زائد افراد متاثر ہوں گے۔ مزید 10 لاکھ 70 ہزار افراد (یا غزہ کی کل آبادی کا 54 فیصد) فیز 4 یعنی ’ایمرجنسی‘ کی حالت میں ہیں، جب کہ 3 لاکھ 96 ہزار افراد (20 فیصد) فیز 3 یعنی ’بحران‘ کی حالت میں ہیں۔

عالمی ادارے کی طرف سے پہلی بار تصدیق کے بعد اسرائیل پر بین الاقوامی دباؤ بڑھتا نظر آ رہا ہے۔ واضح رہے کہ 7 اکتوبر 2023 سے اسرائیل اور فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کے درمیان جنگ جاری ہے۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ جلد ہی غزہ شہر اور حماس کے دیگر مضبوط ٹھکانوں پر قبضہ کر کے جنگ کو تیز کرنے کا ارادہ رکھتا ہے جبکہ ماہرین کہتے ہیں کہ اس سے بھوک کا بحران مزید بڑھ جائے گا۔

آئی پی سی نے کہا کہ بھوک امداد کی ناکہ بندی سے پیدا ہوئی اور غزہ میں بڑے پیمانے پر رپورٹ میں کہا گیا کہ غزہ میں نصف ملین سے زیادہ لوگوں کو بھوک کی تباہ کن قلت کا سامنا ہے۔ گزشتہ ماہ آئی پی سی نے کہا تھا کہ غزہ میں قحط کی بدترین صورتحال سامنے آ رہی ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے غزہ میں غذائی قلت کی تردید کرتے ہوئے ایسی خبروں کو جھوٹ قرار دیا۔ غزہ میں امداد کی منتقلی کے ذمہ دار اسرائیلی فوجی ادارے نے اس رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے اسے جھوٹی اور متعصبانہ قرار دیا۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read