وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کے روز کولکاتا میں ایک جلسۂ عام سے خطاب کرتے ہوئے مغربی بنگال کی ترقی میں رکاوٹوں کا ذمہ دار ریاست کی ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) حکومت کو قرار دیا۔ انھوں نے کہا کہ بدعنوانی اور بدانتظامی کی وجہ سے ریاست پسماندہ ہو چکی ہے اور جب تک ٹی ایم سی اقتدار میں ہے بنگال کی حقیقی ترقی ممکن نہیں۔ اس موقع پر وزیر اعظم نے کولکاتا میں 5,200 کروڑ روپے سے زائد مالیت کے متعدد ترقیاتی منصوبوں کا سنگ بنیاد بھی رکھا، جن میں چھ لین والا کونا ایکسپریس وے بھی شامل ہے۔ انھوں نے مغربی بنگال کے عوام کو ان منصوبوں کے لیے مبارکباد دی اور کہا کہ یہ ترقیاتی کام ریاست کو نئی سمت دیں گے۔
وزیراعظم مودی نے عوام سے اپیل کی کہ وہ بھارتیہ جنتا پارٹی کو ووٹ دیں تاکہ مرکز کی فلاحی اسکیموں کے فوائد بنگال کے ہر فرد تک پہنچ سکیں۔ انھوں نے کہا کہ ’’بنگال میں بی جے پی کو اقتدار میں لانا ضروری ہے تاکہ مرکزی حکومت کی اسکیموں کا فائدہ براہ راست عوام کو مل سکے۔ ٹی ایم سی جائے گی تبھی اصلی تبدیلی آئے گی۔‘‘ انھوں نے الزام لگایا کہ ٹی ایم سی حکومت کے دور میں ریاست میں جرائم اور بدعنوانی عام ہو چکی ہے اور مرکزی حکومت کی جانب سے بھیجی گئی امداد اکثر ٹی ایم سی کے کارکنوں کی جیبوں میں چلی جاتی ہے، جس کی وجہ سے بنگال کئی فلاحی منصوبوں میں پیچھے رہ گیا ہے۔
وزیر اعظم مودی نے یہ بھی کہا کہ ٹی ایم سی حکومت مرکز کی اسکیموں پر عمل درآمد میں رکاوٹیں ڈالتی ہے، جس سے عوام کو صحت، تعلیم، روزگار اور رہائش جیسی بنیادی سہولیات حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ وزیر اعظم مودی نے اس بات پر زور دیا کہ اب وقت ہے کہ مغربی بنگال میں ’’سچا اور حقیقی‘‘ بدلاؤ آئے، جو صرف نعرے بازی نہیں بلکہ عملی اقدامات کے ذریعے ممکن ہوگا۔ انھوں نے کہا کہ صرف بی جے پی ہی ایسی حکومت دے سکتی ہے جو نوجوانوں کو روزگار، خواتین کو تحفظ، کسانوں کو صحیح قیمت اور بدعنوانی کا خاتمہ یقینی بنائے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



