Bharat Express DD Free Dish

Opposition PC On Election Commission: سی سی ٹی وی دینا پرائیویسی کی خلاف ورزی کیسے؟ الیکشن کمیشن کے جواب پر اپوزیشن نے اٹھائے سوال

بہارمیں ایس آئی آر اور ووٹ چوری کے معاملے پراپوزیشن جماعتوں نے ایک بارپھرالیکشن کمیشن کونشانہ بنایا ہے۔ اجتماعی پریس کانفرنس میں اپوزیشن پارٹیوں کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کوان کے سوالات کا جواب دینا چاہئے تھا، لیکن وہ پارٹیوں سے سوالات پوچھ رہے ہیں۔

نئی دہلی: اب انڈیا الائنس کے لیڈران نے بہارمیں ووٹرلسٹ پرخصوصی نظرثانی مہم (ایس آئی آر) اورووٹ چوری کے معاملے پرالیکشن کمیشن پرحملہ کیا ہے۔ ایک دن پہلے اتوارکوچیف الیکشن کمشنرگیانیش کمارنے ایس آئی آراور ووٹ چوری کے معاملے پرپریس کانفرنس کی۔ گیانیش کمارنے راہل گاندھی کے الزامات کا جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ یا تووہ 7 دنوں کے اندرحلف نامہ دیں یا پھرملک سے معافی مانگیں۔ اب کانگریس کے ساتھ ساتھ سماج وادی پارٹی، ٹی ایم سی، آرجے ڈی، عام آدمی پارٹی اورسی پی ایم نے بھی الیکشن کمیشن کوجواب دینے کے ساتھ ساتھ سوال اٹھائے ہیں۔

الیکشن کمیشن بہارکے ایس آئی آر، مہاراشٹرلوک سبھا اورودھان سبھا کے درمیان ووٹروں کی بڑھی ہوئی تعداد، ڈیجیٹل لسٹ، سی سی ٹی وی فوٹیج جیسی سبھی ضروری سوالوں پرخاموش رہا۔ اس سے صاف ظاہرہوتا ہے کہ الیکشن کمیشن ایسے افسران کی نگرانی کررہا ہے، جو سیاسی پارٹیوں کے لئے کام کرتے ہیں۔ افسران آئیں گے اورجائیں گے، ہم ان پرنگرانی رکھیں گے۔ ہم مناسب وقت پرمناسب قدم اٹھائیں گے۔ اس سے صاف ظاہرہوتا ہے کہ الیکشن کمیشن ایسے افسران کی نگرانی میں ہے، جوکسی سیاسی پارٹیوں کے لئے کام کرتے ہیں۔ افسران آئیں گے اورجائیں گے، ہم ان پرنظررکھیں گے، مناسب وقت پرمناسب اقدامات کریں گے۔

رام گوپال یادو نے پوچھا- اکھلیش نے دیا تھا حلف نامہ، کیا ہوا؟

سماج وادی پارٹی کے لیڈررام گوپال یادونے کہا کہ الیکشن کمیشن نے باربارکہا ہے کہ جوالزامات لگائے جا رہے ہیں، وہ حلف نامہ کے ذریعہ دیا جانا چاہئے، لیکن جب اکھلیش یادو نے 2022 میں حلف نامہ دیا توکیا کوئی کارروائی ہوئی؟ کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ اکھلیش یادو نے الیکشن کمیشن کو2022 کے انتخابات میں حلف نامہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ ایس پی حامیوں کے ووٹ بڑے پیمانے پرکاٹے جا رہے ہیں، 18 ہزارووٹروں کے حلف نامہ بھی دیئے گئے، آج تک ایک حلف نامہ پربھی کوئی کارروائی نہیں ہوئی ہے۔

 بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read