مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے کٹھوعہ میں قدرتی آفت کے بعد جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر اور وزیر اعلیٰ سے بات چیت کی ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا کے ذریعے اس کی اطلاع دی۔ امت شاہ نے بتایا کہ انہوں نے جموں و کشمیر حکومت کو مودی حکومت کی جانب سے ہر ممکن مدد کا یقین دلایا ہے۔
وزیر داخلہ امت شاہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ایکس” پر لکھا:”کٹھوعہ میں بادل پھٹنے کے واقعے کے سلسلے میں جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر اور وزیر اعلیٰ سے بات کی۔ مقامی انتظامیہ کی طرف سے راحت اور بچاؤ کا کام جاری ہے اور این ڈی آر ایف کی ٹیمیں بھی جائے وقوعہ پر پہنچ چکی ہیں۔ مودی حکومت کی جانب سے ہر ممکن مدد کا یقین دلایا۔ ہم جموں و کشمیر کے اپنے بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ مضبوطی سے کھڑے ہیں۔”
اس سے قبل، جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے کٹھوعہ کے واقعے پر افسوس کا اظہار کیا۔
انہوں نے لکھا:”کٹھوعہ کے کئی علاقوں میں بارش کے باعث ہونے والے تباہ کن زمین کھسکنے کے واقعے میں جان و مال کے نقصان پر گہرا دکھ ہے۔ یہ سانحہ دل دہلا دینے والا ہے۔ مرکزی وزیر داخلہ جناب امت شاہ کو فوج، این ڈی آر ایف، ایس ڈی آر ایف، پولیس اور انتظامیہ کی جانب سے جاری راحت اور بچاؤ کاموں کی تفصیلات فراہم کی گئی ہیں۔”
ایک اور پوسٹ میں لیفٹیننٹ گورنر نے لکھا:”میں نے پولیس افسران کو متاثرہ علاقوں میں امدادی اور بچاؤ کارروائیوں کے بہتر ربط اور عمل درآمد کے ساتھ موقع پر طبی سہولتوں کی فراہمی کو یقینی بنانے کی ہدایت دی ہے۔”
آخر میں انہوں نے لکھا:”میری ہمدردیاں سوگوار خاندانوں کے ساتھ ہیں اور میں زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کرتا ہوں۔”
جموں و کشمیر کے ضلع کٹھوعہ میں بادل پھٹنے سے کم از کم 4 افراد ہلاک ہوئے ہیں اور کئی دیگر زخمی ہیں۔ جنگلوت علاقے میں ہفتہ اور اتوار کی درمیانی رات بادل پھٹا۔ پچھلے چار دنوں میں جموں و کشمیر میں بادل پھٹنے کا یہ دوسرا واقعہ ہے۔ 14 اگست کو، ضلع کشتواڑ کے گاؤں چشوتی میں بادل پھٹا تھا۔ اس آفت کے بعد اب تک 65 لاشیں برآمد ہو چکی ہیں، جب کہ 100 سے زائد افراد کو بچایا جا چکا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

