حال ہی میں امریکی ریاست الاسکا میں امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روسی صدر ولادیمیر پوتن کی ایک اہم اور تاریخی ملاقات ہوئی، جس میں یوکرین جنگ، باہمی تعلقات اور مستقبل کے تعاون جیسے کئی اہم موضوعات پر بات چیت کی گئی۔ ملاقات کے بعد محض 12 منٹ کی ایک مشترکہ پریس کانفرنس ہوئی، جس میں دونوں رہنماؤں نے صرف اپنے بیانات دیے، لیکن کسی صحافی کے سوالات نہیں لیے۔
“اگلی بار ماسکو میں…” – حیرت بھرا لمحہ
پریس کانفرنس کے اختتام پر صدر ٹرمپ نے پوتن سے کہا:”جلد ملاقات ہوگی۔”
اس پر پوتن نے انگریزی میں مسکرا کر جواب دیا:”Next time in Moscow.”
ٹرمپ یہ سن کر مسکرائے اور بولے:”Oh, that’s an interesting one.” یعنی، “اوہ، یہ تو دلچسپ بات ہے۔”
یہ جملے نہ صرف ماحول کو نرم کر گئے، بلکہ عالمی سفارتی حلقوں میں بھی بحث کا مرکز بن گئے۔
پوتن کا خطاب اور تاریخی رشتہ
صدر پوتن نے الاسکا کو امریکہ اور روس کے مشترکہ تاریخی ورثے کا حصہ قرار دیا۔ انہوں نے دوسری عالمی جنگ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس جنگ میں دونوں ممالک نے ایک ساتھ مل کر لڑا تھا۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ گزشتہ کچھ برسوں میں روس-امریکہ تعلقات میں کشیدگی آئی ہے، لیکن اس طرح کی براہ راست ملاقاتیں دونوں ممالک کے مفاد میں ہیں۔
یوکرین پر توجہ کا مرکز
اس ملاقات میں یوکرین جنگ سب سے نمایاں موضوع رہا۔ پوتن کے مطابق:”صدر ٹرمپ اس تنازعے کی اصل وجوہات کو سمجھنے میں سنجیدہ ہیں، اور ہمیں امید ہے کہ جو ابتدائی مفاہمت ہوئی ہے، اس سے یوکرین میں امن کا راستہ کھلے گا۔”
پوتن نے کہا کہ روس سنجیدگی سے جنگ کا خاتمہ چاہتا ہے اور یورپی ممالک اور یوکرین کو مذاکرات کے عمل میں رکاوٹ نہیں ڈالنی چاہیے۔
“اگر ٹرمپ ہوتے، جنگ نہ ہوتی” – پوتن کا دعویٰ
پوتن نے دعویٰ کیا کہ اگر 2022 میں ٹرمپ صدر ہوتے تو یوکرین جنگ شروع ہی نہ ہوتی۔ ان کے مطابق، ٹرمپ کا رویہ “دوستانہ اور قابلِ اعتماد” تھا، جس کے لیے انہوں نے ان کا شکریہ بھی ادا کیا۔ پوتن نے یہ بھی کہا کہ آرکٹک خطے میں دونوں ممالک کے درمیان تعاون اور سرمایہ کاری کے وسیع امکانات موجود ہیں۔
ٹرمپ کا موقف اور مستقبل کی حکمتِ عملی
صدر ٹرمپ نے اس ملاقات کو “بامعنی اور تعمیری” قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ:”ابھی چند نکات پر بات چیت باقی ہے، لیکن بہت سے معاملات پر اتفاق رائے ہو چکا ہے۔ کوئی معاہدہ اُس وقت تک مکمل نہیں ہوتا، جب تک تمام نکات طے نہ ہو جائیں۔”
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ جلد ہی نیٹو اور یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی سے بھی ملاقات کریں گے تاکہ آئندہ کے لائحہ عمل پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



