15 اگست 2025 کو دہلی کے تاریخی لال قلعہ پر منعقدہ ی یوم آزادی کی تقریب میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی اور کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے کی غیر موجودگی نے سیاسی طوفان کھڑا کر دیا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے کانگریس پر شدید تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ اپوزیشن پارٹی نے قومی تقریب کا بائیکاٹ کر کے قوم کی توہین کی ہے۔
بی جے پی کی شدید تنقید
بی جے پی کے ترجمان شہزاد پوناوالا نے میڈیا سے کہا:”یہ کوئی نجی تقریب نہیں بلکہ ملک کا قومی تہوار تھا۔ کانگریس قیادت کی غیر موجودگی اس بات کا ثبوت ہے کہ انہیں قومی روایات یا حب الوطنی سے کوئی سروکار نہیں۔”
بی جے پی کے مطابق ایسے موقع پر جب پورا ملک جشنِ آزادی منا رہا ہو، اپوزیشن جماعت کے اعلیٰ رہنماؤں کا نہ آنا ایک منفی پیغام دیتا ہے اور قومی یکجہتی کے جذبے کو کمزور کرتا ہے۔
کانگریس کا بھرپور جواب
بی جے پی کے ان الزامات کا کانگریس نے بھی فوری اور دوٹوک جواب دیا۔ کانگریس رہنما گُردیپ سنگھ سپل نے کہا:”گزشتہ گیارہ برسوں سے وزیر اعظم نریندر مودی لال قلعہ کی فصیل سے اپوزیشن پر حملے کرتے آ رہے ہیں۔ وہ یوم آزادی کی تقریر کو سیاسی حملوں کا پلیٹ فارم بناتے ہیں۔ ان کی زبان ایسی ہوتی ہے جیسے ملک 2014 کے بعد ہی جاگا ہو۔”
تاریخی کارنامے چھپائے جا رہے ہیں: کانگریس
سپل نے مزید کہا کہ وزیر اعظم نے اپنی تقریر میں بھارت کو زرعی پیداوار، چاول، مصالحہ جات اور پھلوں کی پیداوار میں دنیا میں سرفہرست قرار دیا، لیکن یہ ذکر نہیں کیا کہ یہ کامیابیاں:
اندرا گاندھی کی ہرِت کرانتی (زرعی انقلاب)
راجیو گاندھی کے آئل سیڈ مشن
اور نرسمہا راؤ کی شویت کرانتی (دودھ انقلاب)
کا نتیجہ تھیں۔
“وزیر اعظم کو ملک کو جوڑنے کی بات کرنی چاہیے“
کانگریس کے مطابق وزیر اعظم کو قومی دن پر ملک میں اتحاد، بھائی چارے اور ہم آہنگی کی بات کرنی چاہیے، نہ کہ سیاسی مخالفین پر الزامات کی بوچھار۔ سپل نے کہا:”آئین نے وزیر اعظم کو ملک کو جوڑنے کی ذمہ داری دی ہے، مگر گزشتہ گیارہ سالوں میں یہ کردار نظر نہیں آیا۔”
سیاسی بیانات کا سلسلہ جاری
یہ معاملہ اب مکمل طور پر ایک سیاسی بحث میں تبدیل ہو چکا ہے۔ ایک طرف بی جے پی اسے حب الوطنی اور قومی وقار سے جوڑ رہی ہے، تو دوسری طرف کانگریس اسے وزیر اعظم کی “تقسیم کی سیاست” کا نتیجہ قرار دے رہی ہے۔ دونوں جماعتوں کے بیانات نے یہ واضح کر دیا ہے کہ یومِ آزادی جیسے قومی دن کو بھی سیاست سے مکمل طور پر الگ رکھنا اب آسان نہیں رہا۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


