Bharat Express DD Free Dish

Army Chief Labels Hamas a Terror Threat to India: آرمی چیف جنرل دویدی نے پہلی مرتبہ عوامی طور پر ’’حماس‘‘ کو قرار دیا دہشت گرد تنظیم، کہا-ہندوستان کے لیے ہے باعثِ تشویش

جنرل دویدی کے اس بیان کو اس تناظر میں ایک بڑی پالیسی تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جو ظاہر کرتا ہے کہ ہندوستان کی انسدادِ دہشت گردی کی حکمتِ عملی اب صرف جنوبی ایشیا تک محدود نہیں۔

ہندوستانی فوج کے سربراہ جنرل اُپیندر دویدی نے اتوار کے روز ایک اہم بیان میں فلسطینی تنظیم حماس کو ان دہشت گرد گروپوں کی فہرست میں شامل قرار دیا، جنھیں ہندوستان اپنے لیے تشویش کا باعث سمجھتا ہے۔ اس بیان میں حماس کا ذکر لشکرِ طیبہ (LeT) اور پہلگام حملے کی ذمہ دار ٹی آر ایف جیسی تنظیموں کے ساتھ کیا گیا ہے۔ جنرل دویدی نے آئی آئی ٹی مدراس میں ایک تقریب کے دوران کہا کہ ’’حماس، لشکرِ طیبہ، ٹی آر ایف اور دیگر کچھ نام جو سامنے آ رہے ہیں… یہ وہ تنظیمیں ہیں جو بھارت کی مستقل تشویش کا حصہ ہیں۔‘‘

واضح رہے کہ یہ پہلا موقع ہے جب کسی ہندوستانی فوجی سربراہ نے حماس کو کھل کر دہشت گرد تنظیم قرار دیا ہے۔ تاہم اب تک حکومتِ ہند نے سرکاری طور پر حماس کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے سے گریز کیا ہے، حالاں کہ امریکہ، برطانیہ اور یورپی یونین جیسے مغربی ممالک پہلے ہی حماس کو دہشت گرد گروپ قرار دے چکے ہیں۔ لیکن یہ بھی واضح رہے کہ حماس کو اب تک اقوام متحدہ نے دہشت گرد تنظیم نہیں قرار دیا ہے۔

حماس پر کیوں ہے ہندوستانی سیکیورٹی اداروں کی نظر؟

ہندوستانی سکیورٹی اداروں کے لیے حماس اس وقت توجہ کا مرکز بنا جب 5 فروری 2024 کو سوشل میڈیا پر ایسی ویڈیوز سامنے آئیں جن میں پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر (PoK) میں حماس کے مبینہ نمائندے لشکرِ طیبہ، جیشِ محمد اور دیگر تنظیموں کے ساتھ دکھائی دیے۔ ان ویڈیوز میں ہندوستان مخالف تقاریر سنی گئیں اور کشمیر کو ’’ہندوستان سے چھیننے‘‘ کی دھمکیاں بھی موجود تھیں۔ اب جنرل دویدی کے اس بیان کو اس تناظر میں ایک بڑی پالیسی تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جو ظاہر کرتا ہے کہ ہندوستان کی انسدادِ دہشت گردی کی حکمتِ عملی اب صرف جنوبی ایشیا تک محدود نہیں بلکہ عالمی سطح پر سرگرم تنظیموں کو بھی اس میں شامل کیا جا رہا ہے۔

دریں اثنا تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر ہندوستان سرکاری طور پر حماس کو دہشت گرد تنظیم قرار دیتا ہے تو اس سے مغربی ایشیا میں اس کی سفارتی حکمت عملی بھی متاثر ہو سکتی ہے، جہاں ہندوستان نے طویل عرصے سے اسرائیل اور فلسطینی اتھارٹی کے درمیان توازن برقرار رکھا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read