فائل فوٹو
لائن آف کنٹرول پر پاکستان کی جانب سے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی سے متعلق ایک خبر سوشل میڈیا پر وائرل ہورہی ہے جس کو انڈین آرمی نے افواہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسی کوئی حرکت آج پاکستان کی جانب سے نہیں کی گئی ہے اور سرحد پر پوری طرح سے امن برقرار ہے۔ انڈین آرمی کی طرف سے کہا گیا کہ سرحد پار سے فائرنگ کا کوئی واقعہ آج پیش نہیں آیا ہے۔انڈین آرمی نے بطور خاص پونچھ علاقے کا ذکر کیا ہے اور کہا ہے کہ یہاں ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا ہے اور خلاف ورزی سے متعلق جو خبر وائرل ہورہی ہے پوری طرح سے بے بنیاد ہے۔
There have been some media and social media reports regarding ceasefire violations in the Poonch region. It is clarified that there has been no ceasefire violation along the Line of Control: Indian Army pic.twitter.com/OhCLA9yh3b
— ANI (@ANI) August 5, 2025
آپ کو بتادیں کہ یہ خبر گردش کررہی تھی کہ پاکستان نے جموں و کشمیر کے پونچھ ضلع میں ایل او سی یعنی لائن آف کنٹرول پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کی ہے۔ وائرل خبروں کے مطابق پاکستانی فوجیوں نے بلا اشتعال فائرنگ شروع کر دی۔ یہ فائرنگ 10 سے 15 منٹ تک جاری رہی۔ فائرنگ چھوٹے ہتھیاروں سے کی گئی۔ بھارتی فوج نے بھی اس کا بھرپور اور موثر جواب دیا ہے۔ فی الحال فائرنگ کا سلسلہ تھم گیا ہے تاہم لائن آف کنٹرول پر ہائی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے کیونکہ اطلاعات ہیں کہ دہشت گرد دراندازی کی کوشش کر رہے ہیں۔
وائرل ہورہی فرضی خبرو میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ جنگ بندی 2019 میں جموں و کشمیر میں آرٹیکل 370 کی منسوخی کی سالگرہ کے موقع پر ہوئی ہے۔ مئی میں آپریشن سندور کے بعد یہ پہلی جنگ بندی کی خلاف ورزی ہے۔ دعویٰ یہاں تک کیا گیا کہ آج یعنی 5 اگست کو ہندوستانی فوج کی 04-JAK رائفل نے دعویٰ کیا کہ پاکستانی فوج کی 801 مجاہدین پوسٹ، LP-1 نے جنگ بندی کی خلاف ورزی کی ہے اور 04-JAK رائفل کی ہندوستانی فوج کی پوسٹ چھتری پر چھوٹے ہتھیاروں سے 12/15 راؤنڈ فائر کیے ہیں۔ بھارتی فوج نے بھی یکساں طور پر جوابی کارروائی کی ہے، ۔حالانکہ یہ تمام حوالے جات اور بیانات مکمل طور پر جھوٹ پر مبنی ہیں ،چونکہ کوئی سیز فائر کی خلاف ورزی ہوئی ہی نہیں ہے۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


