Bharat Express DD Free Dish

LINE OF CONTROL

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں جاری بدامنی منگل کے روز مسلسل سینتیسویں روز بھی برقرار رہی۔ راؤلکوٹ میں ہزاروں افراد احتجاج کے لیے جمع ہوئے۔ اس موقع پر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے رہنما سردار امان خان نے پاکستان پر اس علاقے پر زبردستی قبضہ کرنے کا الزام عائد کیا۔

آپ کو بتادیں کہ یہ خبر گردش کررہی تھی کہ پاکستان نے جموں و کشمیر کے پونچھ ضلع میں ایل او سی یعنی لائن آف کنٹرول پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کی ہے۔ وائرل خبروں کے مطابق پاکستانی فوجیوں نے بلا اشتعال فائرنگ شروع کر دی۔ یہ فائرنگ 10 سے 15 منٹ تک جاری رہی۔

حکام نے بتایا کہ گرفتار شدہ عارف کے قبضے سے ایک موبائل فون اور تقریباً 20,000 پاکستانی روپے برآمد ہوئے۔ ابتدائی تفتیش کے دوران، عارف نے انکشاف کیا کہ وہ ایل او سی کے پاکستانی جانب رہنے کی وجہ سے علاقے کی ٹوپوگرافی سے اچھی طرح واقف ہے۔

پاکستانی فورسز نے آر ایس پورہ سیکٹر میں بین الاقوامی سرحد پر بی ایس ایف کی یونٹ کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں سب انسپکٹر محمد امتیاز شہید ہوگئے۔ بی ایس ایف کے ایک عہدیدار نے تصدیق کی کہ امتیاز اپنی یونٹ کے سات دیگر اہلکاروں کے ساتھ زخمی ہوئے تھے۔

مولانا محمود اسعد مدنی نے کہا کہ ہندوستان ہمارا ملک ہے، اس کی حفاظت کرنا ہماری ذمہ داری ہے اور اس کے لیے ہمیں ہر طرح کی قربانی دینے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ ہم اپنی فوج کے ساتھ ہر طرح سے کھڑے ہیں۔اس لئے عوام کو بھی یہ پیغام دیا جارہا ہے کہ مضبوط رہیں۔

احتیاطی تدابیر کے طور پر، متاثرہ علاقوں میں تمام اسکولوں اور کالجوں کو دن بھر کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔ حکام نے رہائشیوں سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ گھروں کے اندر رہیں اور اپنی حفاظت کے لیے مقامی عہدیداران کی ہدایت پر پوری طرح عمل کریں۔

ہندوستان نے پاکستان پرایئراسٹرائیک کی۔ اسی کے بعد پاکستان بوکھلا گیا ہے اور اس نے عام ہندوستانی شہریوں کو نشانہ بنایا ہے۔ پڑوسی ملک کی طرف سے ایل اوسی پرفائرنگ کی گئی ہے، جس میں 7 افراد کی موت ہوگئی ہے۔

وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ عالمی برادری کو ایسی گھناؤنی دہشت گردانہ کارروائیوں کی واضح اور پرزور مذمت کرنی چاہیے۔ اس بات چیت کے دوران امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہندوستان کے ساتھ امریکہ کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا۔

یہ فائرنگ پاکستانی فوج کی طرف سے بلا اشتعال کی جا رہی ہے۔ جہاں منگل کو لائن آف کنٹرول کے پار سے کپواڑہ، بارہمولہ اور اکھنور سیکٹروں میں فائرنگ ہوئی، وہیں کل کپواڑہ اور پونچھ کے سرحدی علاقوں میں فائرنگ کی گئی۔

واضح رہے کہ  ہندوستان اور پاکستان کی فوجوں نے 2021 میں جنگ بندی کا اعلان کیا تھا۔ اس جنگ بندی کے بعد سرحد پر کشیدگی کافی حد تک کم ہو گئی۔ تاہم حالیہ دنوں میں کچھ تشویشناک واقعات رونما ہوئے ہیں۔