Bharat Express DD Free Dish

Ceasefire India-Pakistan

آپ کو بتادیں کہ یہ خبر گردش کررہی تھی کہ پاکستان نے جموں و کشمیر کے پونچھ ضلع میں ایل او سی یعنی لائن آف کنٹرول پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کی ہے۔ وائرل خبروں کے مطابق پاکستانی فوجیوں نے بلا اشتعال فائرنگ شروع کر دی۔ یہ فائرنگ 10 سے 15 منٹ تک جاری رہی۔

بھارت کی اس پالیسی کی جڑیں اس کے وسیع تر سفارتی اور فوجی اہداف میں پیوست ہیں۔ بھارت جنگ بندی کو ایک ایسے آلے کے طور پر دیکھتا ہے جو ایل او سی پر کشیدگی کو کم کرتا ہے، جس سے وہ اپنی توجہ اندرونی ترقی، اقتصادی ترقی، اور دیگر عالمی چیلنجز پر مرکوز کر سکتا ہے۔

ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے تجارت روکنے کی دھمکی دے کر بھارت اور پاکستان کو جنگ بندی پر رضامند ہونے پر مجبور کیا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے دونوں ممالک کو بتایا کہ میں نے بہت مدد کی۔ ہم نے تجارت میں مدد کی۔

جنگ بندی کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان بداعتمادی برقرار ہے، اور شہباز شریف کی مذاکرات کی پیشکش کو بھارت نے ابھی تک باضابطہ طور پر قبول نہیں کیا۔ پاکستانی وزیراعظم نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوٹیرس کی سفارتی کوششوں کی بھی تعریف کی۔

ڈونالڈ ٹرمپ کے بیان پر میڈیا کے سوالوں  کا جواب دیتے ہوئے وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے واضح کیا تھاکہ 'پاکستان کے ساتھ سیز فائر معاہدے کے دوران ہندوستانی اور امریکی قیادت رابطے میں تھی، لیکن تجارت پر کوئی بات نہیں ہوئی۔

کچھ صارفین نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پاکستان کو دیے جانے والے بیل آؤٹ فنڈز کی جانچ کرے، کیونکہ ان کا خیال ہے کہ یہ فنڈز دہشت گردی کی حمایت کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

یاد رہے کہ بھارت نے 22 اپریل کو پہلگام دہشت گردانہ حملے میں 26 شہریوں کی ہلاکت کے جوابی کارروائی کے طور پر 'آپریشن سندور' شروع کیا تھا۔ اس کے تحت پاکستان اور پی او کے میں دہشت گردوں کے نو ٹھکانوں کو کامیابی سے نشانہ بنایا گیا۔

ہندوستان پاکستان کے درمیان جنگ بندی کے بعد دہلی ایئرپورٹ پر پروازیں معمول پر ہیں لیکن فضائی حالات اور سکیورٹی میں اضافے کے سبب کچھ پروازیں متاثر ہو سکتی ہیں، حکام نے احتیاط برتنے کا مشورہ دیا

دہلی کانگریس ہیڈکوارٹر کے باہر ہورڈنگ لگا دی گئی ہے۔ جس پر لکھا ہے کہ 'اندرا گاندھی ہونا آسان نہیں ہے' اور 'انڈیا کو اندرا کی کمی محسوس ہورہی ہے'۔ اس ہورڈنگ میں اندرا گاندھی کی تصویر کے ساتھ کانگریس کے دو لیڈروں کی تصویریں بھی ہیں۔

محمد ادیب نے کہا کہ پڑوسی ملک کو یہ سمجھ لینا چاہئے کہ دہشت گردی کو فروغ دینا خطے میں قیام امن کے لئے سنگین خطرہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کسی کا دشمن نہیں ہو سکتا لیکن اگر بھارت کے امن و امان کو چیلنج کیا جائے گا تو وہ خاموش بھی نہیں بیٹھ سکتا ہے ۔