پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے بھارت کے ساتھ امن مذاکرات کے لیے تیاری کا اعلان کیا ہے، لیکن انہوں نے واضح کیا کہ یہ مذاکرات اس وقت تک ممکن نہیں جب تک بھارت اپنی فوجی کارروائیوں کو روک کر تنازعات کے حل کے لیے سنجیدہ اقدامات نہیں اٹھاتا۔ شہباز شریف نے سیالکوٹ میں وزیراعظم نریندر مودی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان امن اور مذاکرات کا خواہاں ہے، لیکن اگر بھارت نے دوبارہ جارحیت کی کوشش کی تو اسے سخت جواب دیا جائے گا۔ انہوں نے کشمیر سمیت تمام تصفیہ طلب امور پر جامع مذاکرات کی پیشکش کی، جو کہ حالیہ بھارت-پاکستان کشیدگی کے تناظر میں اہم ہے، جو 22 اپریل 2025 کو پہلگام دہشت گرد حملے کے بعد بھارت کے آپریشن سندور سے شروع ہوئی تھی۔
شہباز شریف نے کامرہ ایئربیس کا دورہ کیا اور پاک فضائیہ کے جوانوں سے ملاقات کی۔اس موقع پرشہباز شریف نے اپنے خطاب میں پاکستان کی فوج کی کارکردگی کو سراہا اور دعویٰ کیا کہ پاکستانی فضائیہ نے بھارتی رافیل لڑاکا طیاروں کو گرانے میں کامیابی حاصل کی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک امن پسند ملک ہے، لیکن اس کی خودمختاری پر حملہ برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے بین الاقوامی برادری، خاص طور پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، سعودی عرب، قطر، ترکی، اور چین کی حمایت کو سراہا، جنہوں نے حالیہ جنگ بندی کے معاہدے میں اہم کردار ادا کیا۔ تاہم، بھارتی حکام نے الزام لگایا کہ پاکستان نے جنگ بندی کے چند گھنٹوں بعد ہی جموں و کشمیر، پنجاب، راجستھان، اور گجرات میں حملے کیے، جس سے کشیدگی برقرار ہے۔
یاد رہے کہ بھارت نے آپریشن سندور کے ذریعے پاکستان کے پنجاب صوبے اور پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر میں نو دہشت گرد اہداف کو نشانہ بنایا، جسے شہباز شریف نے “بزدلانہ” اور “جنگ کا عمل” قرار دیا۔ انہوں نے پہلگام حملے میں پاکستان کا ہاتھ ہونے سے انکار کیا اور غیر جانبدار تحقیقات کی پیشکش کی ۔دوسری جانب، بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے اپنے خطاب میں پاکستان کو دہشت گردی کی سرپرستی ختم کرنے کی تنبیہ کی اور کہا کہ بھارت اب جوابی کارروائی میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں کرے گا۔
جنگ بندی کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان بداعتمادی برقرار ہے، اور شہباز شریف کی مذاکرات کی پیشکش کو بھارت نے ابھی تک باضابطہ طور پر قبول نہیں کیا۔ پاکستانی وزیراعظم نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوٹیرس کی سفارتی کوششوں کی بھی تعریف کی اور کہا کہ پاکستان علاقائی امن کے لیے جنگ بندی کے معاہدے پر عمل پیرا ہے۔ تاہم، بھارتی وزارت خارجہ نے پاکستان کو “دہشت گردی کا مرکز” قرار دیتے ہوئے کہا کہ مذاکرات سے پہلے پاکستان کو دہشت گردی کے ڈھانچے کو ختم کرنا ہوگا۔ حالیہ کشیدگی نے خطے میں امن کے امکانات کو مزید پیچیدہ کر دیا ہے، اور بین الاقوامی برادری دونوں ممالک سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کر رہی ہے۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


