Bharat Express DD Free Dish

Spain Airdrops 12 Tons of Aid in Gaza: غزہ پر ہو رہی ہے کھانوں کی بارش، فرانس کے بعد اسپین نے بھی غزہ میں جہاز سے گرائے 12 ٹن کھانے کے سامان

اس سے قبل برطانیہ اور فرانس سمیت کئی دیگر مغربی ممالک نے حال ہی میں فلسطینیوں کو فضائی راستے سے انسانی امداد کی فراہمی کے لیے مشرق وسطیٰ کے ممالک کے ساتھ شراکت داری کی ہے۔

اسرائیلی ناکہ بندی کے سبب بھک مری کی حد تک پہنچ چکے غزہ کی مدد کے لیے عالمی ممالک نے اقدامات شروع کر دیے ہیں۔ اسپین نے جمعہ کو کہا ہے کہ اس نے غزہ میں 12 ٹن خوراک ہوائی جہاز سے گرائی ہے۔ اسپین کے وزیر خارجہ جوز مینوئل الباریس نے کہا کہ اس مشن میں 24 پیراشوٹ استعمال کیے گئے، جن میں سے ہر ایک 500 کلو (1,100 پاؤنڈ) خوراک لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے، یعنی مجموعی طور پر 12 ٹن خوراک، جو کہ 11,000 افراد کے لیے کافی ہے۔

واضح رہے کہ مصر سے سڑک کے ذریعے غزہ میں داخل ہونے کے انتظار میں بھی اسپین کے امدادی ٹرک تیار کھڑے ہیں۔ الباریس نے کہا کہ غزہ کے لوگ جس قحط سے دوچار ہیں وہ پوری انسانیت کی توہین ہے۔ انھوں نے مطالبہ کیا کہ ’’اسرائیل کو تمام زمینی گزرگاہوں کو مستقل طور پر کھولنا چاہیے تاکہ انسانی امداد بڑے پیمانے پر غزہ پہنچ سکے۔‘‘

اس سے قبل برطانیہ اور فرانس سمیت کئی دیگر مغربی ممالک نے حال ہی میں فلسطینیوں کو فضائی راستے سے انسانی امداد کی فراہمی کے لیے مشرق وسطیٰ کے ممالک کے ساتھ شراکت داری کی ہے۔ لیکن فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کی ایجنسی کے سربراہ فلپ لازارینی نے خبردار کیا کہ یہ ایئرڈروپس کافی نہیں ہوں گے، کیوں کہ غزہ میں صورت حال انتہائی تشویش ناک ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’’ایئر ڈراپس ٹرکوں سے کم از کم 100 گنا زیادہ مہنگے ہیں۔ اس کے عالوہ ٹرک طیاروں کے مقابلے میں دو گنا زیادہ امداد لے جاتے ہیں۔‘‘

اگرچہ اسرائیل نے حالیہ دنوں میں مزید امدادی ٹرکوں کو غزہ کی پٹی میں داخلے کی اجازت دی ہے، لیکن قوام متحدہ کے حمایت یافتہ ماہرین نے منگل کو متنبہ کیا کہ غزہ میں بھک مری ایسی ’’بدترین صورت حال‘‘ تک پہنچ چکی ہے، جسے اس وقت تک روکا نہیں جا سکتا جب تک کہ انسانی ہمدردی کے گروپوں کو غزہ تک فوری اور بلا روک ٹوک رسائی نہ مل جائے۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read