Bharat Express DD Free Dish

Supreme Court hearing Justice Yashwant Varma Cash Case: جسٹس یشونت ورما کی عرضی پر سپریم کورٹ میں سماعت مکمل، فیصلہ محفوظ

داخلی تحقیقاتی کمیٹی نے جسٹس ورما کو دہلی کی رہائش گاہ سے نقدی کی وصولی کے معاملے میں بدعنوانی کا قصوروارپایا تھا۔ یہ واقعہ مارچ میں پیش آیا تھا، جب مبینہ طورپر ان کی سرکاری رہائش گاہ سے بھاری مقدارمیں جلے ہوئے کرنسی نوٹ ملے تھے۔ اس دوران جسٹس ورما دہلی ہائی کورٹ کے جسٹس تھے۔

جسٹس یشونت ورما کی عرضی پر سپریم کورٹ میں سماعت مکمل ہوگئی۔

نئی دہلی: الہ آباد ہائی کورٹ کے جسٹس یشونت ورما کی طرف سے داخل عرضی سے متعلق سپریم کورٹ میں سماعت مکمل ہوچکی ہے۔ جسٹس دیپنکردتہ اوراے جی مسیح کی بینچ نے اپنا فیصلہ محفوظ رکھ لیا ہے۔ گزشتہ سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے اس عرضی سے متعلق سوال اٹھائے تھے۔ جسٹس ورما کی عرضی میں سپریم کورٹ کی داخلی جانچ کمیٹی کی رپورٹ کو چیلنج دیا گیا ہے۔

سینئر وکیل کپل سبل نے جسٹس ورما کی طرف سے اپنے دلائل پیش کیے جبکہ سینئروکیل مکل روہتگی نے کیس پرسماعت ملتوی کرنے کا مطالبہ کیا اورکہا کہ اس کی سماعت اگلے ہفتے کی جائے، لیکن عدالت نے سماعت جاری رکھی۔ سماعت کے دوران کپل سبل نے کہا کہ آپ نے مجھے آئینی معاملات پرنکات تیارکرنے کوکہا تھا، جومیں نے تیارکرلیا ہے۔ جسٹس ورما کی درخواست میں کہا گیا کہ تین ججوں کی اندرونی تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ کو غلط قراردیا جائے۔

عہدے سے ہٹانے کی سفارش غیرآئینی: کپل سبل

انہوں نے یہ بھی کہا کہ درخواست گزاراندرونی تفتیشی عمل کوحقائق کی تلاش کے لیے ایک درست طریقہ کارکے طورپرچیلنج نہیں کر رہے ہیں، بشرطیکہ یہ عمل کارروائی کے آغازکا باعث نہ ہو۔ جسٹس، متعلقہ جسٹس کوعدالتی کام مختص نہ کرنے کی ہدایت کے حق کوبھی چیلنج نہیں کرتے۔ کپل سبل نے عدالت کو یہ بھی بتایا کہ اندرونی تحقیقاتی کمیٹی کی جسٹس ورما کوعہدے سے ہٹانے کی سفارش غیرآئینی ہے۔ اس کے علاوہ، تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ کے خلاف عدالت کے پہلے آنے سے متعلق سوال پر، کپل سبل نے کہا کہ جسٹس ورما نے پہلے رابطہ نہیں کیا کیونکہ ٹیپ جاری ہوچکی تھی اوران کی تصویرپہلے ہی داغدارہوچکی تھی۔

سپریم کورٹ نے عرضی پر اٹھایا تھا سوال

اس سے قبل 28 جولائی کو سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے جسٹس ورما سے ان کی درخواست کے بارے میں سوال کیا، جس میں انہوں نے اپنے گھرسے نقدی برآمد ہونے کے معاملے میں اندرونی تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ کوچیلنج کیا تھا۔ عدالت نے ان سے سوال کیا کہ اس عمل میں حصہ لینے کے بعد اب اس پرسوال کیسے اٹھا سکتے ہیں۔ اندرونی تحقیقاتی کمیٹی نے جسٹس ورما کوان کی دہلی رہائش گاہ سے نقد رقم کی وصولی کے معاملے میں بدانتظامی کا قصوروارپایا تھا۔ یہ واقعہ مارچ میں پیش آیا تھا، جب مبینہ طورپران کی سرکاری رہائش گاہ سے بڑی مقدارمیں جلے ہوئے نوٹ ملے تھے۔ اس دوران جسٹس ورما دہلی ہائی کورٹ کے جسٹس تھے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔ 



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read