پاکستان کے شہرقلات میں بلوچستان کے باغی جنگجوؤں نے صابری گروپ کے 3 قوالوں کا قتل کردیا ہے۔ یہ قوال کوئٹہ میں ایک شادی کی تقریب میں شرکت کے لیے جا رہے تھے۔ صابری گروپ کے قوالوں کے قتل کی خبرنے پاکستان میں ہنگامہ مچا دیا ہے اوراسے ایک بارپھر شرمسارکیا ہے۔ بلوچ جنگجوؤں نے ابھی تک اس پرکوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔
بی بی سی اردوکے مطابق، بدھ (16 جولائی) کوایک بس سے صابری گروپ کے قوال کوئٹہ جا رہے تھے۔ اسی دوران گھات لگائے بیٹھے باغیوں نے بس پرحملہ کردیا۔ بلوچ جنگجوؤں کا کہنا تھا کہ اس بس میں پنجاب سے فوج کے جاسوس سوارتھے، جن پرحملہ کیا گیا۔
بس میں سوارتھے 17 سے زیادہ لوگ
کوئٹہ صوبہ کے پولیس افسرنے بی بی سی کوبتایا کہ بس میں 17 سے زیادہ لوگ سوارتھے۔ تین لوگ فوراً ہی مارے گئے۔ 14 زخمی ہوگئے، جن میں سے تین کی صورتحال سنگین بتائی جارہی ہے۔ سبھی کا علاج مقامی اسپتال میں کرایا جا رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، 16 جولائی کو کوئٹہ میں ایک اعلیٰ خاندان کی شادی میں تقریب تھی، جس میں ان قوالوں کوبلایا گیا تھا۔ بس میں بیشتر لوگ صابری گروپ کے ہی سوار تھے۔ حادثہ پرصابری گروپ نے کچھ بھی تبصرہ کرنے سے انکارکیا ہے۔ بس میں سوارکراچی کے شہری اورقوال موسیقارمحمد رضوان نے بی بی سی اردوسے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم لوگ ایک تقریب میں جا رہے تھے۔ بس میں جولوگ مارے گئے ہیں، ان میں دو امجد صابری کے رشتہ داربھی تھے۔
قوالی کے لئے مشہورہے صابری گروپ
صابری گروپ پوری دنیا میں قوالی کے لئے مشہورہے۔ اس گروپ کا قیام غلام فرید صابری، مقبول صابری نے کیا تھا۔ بعد میں گروپ سے امجد صابری اورمحمد غزنوی صابری جڑگئے۔ گروپ کے اراکین صوفی قوالی سنگیت کے فنکارتھے۔ اسے صابری برادران کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔
صابری گروپ خود کومیاں تانسین کی اولاد ہونے کا بھی دعویٰ کرتے رہے ہیں۔ صابری برادران کوسعودی عرب میں مکہ مکرمہ کے صحن میں گانے کا موقع بھی ملا ہے۔ اس کے بعد صابری برادران پوری دنیا میں مشہورہوئے۔ صابری برادران کوآکسفورڈ یونیورسٹی نے شکوہ جواب شکوہ کے لیے ڈاکٹریٹ کی ڈگری سے نوازا۔ اس وقت صابری گروپ میں 50 سے زائد موسیقارکام کررہے ہیں۔ ان میں سے زیادہ ترکا تعلق صابری کے خاندان سے ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


