Bharat Express DD Free Dish

BLA

پاکستان کے وزیر ریلوے حنیف عباسی نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے بزدلانہ دہشت گرد کارروائی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ایسے حملوں سے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کا عزم کمزور نہیں ہوگا۔

بی ایل اے کے میڈیا ونگ کی جانب سے جاری ایک علیحدہ پیغام میں گروپ کے کمانڈر اِن چیف بشیر زیب بلوچ نے بلوچستان کے عوام سے اپیل کی کہ وہ اپنے گھروں سے باہر نکلیں اور پاکستانی فوج کے خلاف جدوجہد میں شامل ہوں۔

بی ایل اے نے کہا کہ 25 دسمبر کو ایک حملے میں پنجگور ضلع کے کٹگری علاقے میں چین۔پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے روٹ پر ایک فوجی گاڑی کو ریموٹ کنٹرول بم کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔ دعویٰ کیا گیا کہ اس دھماکے میں چھ پاکستانی فوجی ہلاک اور چار زخمی ہوئے۔

امریکہ نے بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور مجید بریگیڈ کوغیرملکی دہشت گرد قرار دے رکھا ہے۔ اس تنظیم کو پہلے ہی سال 2019 میں عالمی دہشت گرد قراردیا جا چکا ہے۔

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے شہرقلات میں بلوچ جنگجوؤں نے ایک بس پراندھا دھند فائرنگ کردی۔ اس فائرنگ میں صابری گروپ کے تین قوال جاں بحق ہوگئے۔ یہ گروپ کوئٹہ میں ایک شادی کی تقریب میں شرکت کے لیے جا رہا تھا۔ اس واقعہ نے پاکستان کو ایک بارپھر شرمسار کر دیا ہے۔

بلوچ جنگجووں کے ان دعووں کے بعد پاکستان کی سیکورٹی اورخفیہ دونوں ایجنسیوں پر سوال کھڑے ہونے لگے ہیں۔ بی ایل اے کے مطابق، انہوں نے بینک، پولیس اسٹیشن سمیت اہم سرکاری اداروں پرقبضہ کرلیا ہے۔

بلوچستان لبریشن آرمی کے ترجمان جیند بلوچ کے مطابق پہلا حملہ بولن کے ماچ علاقے میں شورقند میں کیا گیا، جہاں پاکستانی فوج کے قافلے کو نشانہ بنا کر ریموٹ کنٹرول آئی ای ڈی سے حملہ ہوا۔

بلوچستان میں اس وقت بی ایل اے جیسے دہشت گرد گروپوں کے خلاف کئی فوجی آپریشنز کیے جا رہے ہیں۔ حال ہی میں، پاکستانی فوج نے دعویٰ کیا کہ اس نے بلوچستان کے ضلع کیچ میں متوازی کارروائیوں میں کم از کم 12 دہشت گردوں کو ہلاک کیا۔