چمپارن، بہار میں ایک عوامی اجتماع کے دوران پنچایت سربراہ کی جانب سے اعتراض کیے جانے پر مہاتما گاندھی کے پڑپوتے تشار گاندھی کو اسٹیج سے ہٹا دیا گیا۔ اطلاعات کے مطابق ان کی تقریر میں وزیر اعلیٰ نتیش کمار، وزیر اعظم نریندر مودی اور حکمراں جے ڈی یو-بی جے پی اتحاد پر تنقید شامل تھی، جس پر پنچایت چیف نے سخت ردعمل ظاہر کیا۔
یہ چونکا دینے والا واقعہ چمپارن ضلع میں پیش آیا، جہاں مہاتما گاندھی نے 10 اپریل 1917 کو اپنی پہلی عدم تشدد پر مبنی سیاسی تحریک کا آغاز کیا تھا۔ ایسے علاقے میں تشار گاندھی کے ساتھ ایسا برتاؤ ’’سخت توہین‘‘ پر مبنی ہے۔ واضح رہے کہ تشار گاندھی ان دنوں ’’بدلاو یاترا‘‘ پر ہیں، جو کہ راشٹریہ جنتا دل، کانگریس اور بائیں بازو کی جماعتوں کے حمایت یافتہ اپوزیشن اتحاد کے لیے عوامی حمایت حاصل کرنے کی ایک کوشش ہے۔
گاؤں کے مکھیا نے تشار گاندھی کو کہا-کانگریس کا غلام
پیر کی صبح تشار گاندھی ترکولیا گاؤں پہنچے، جہاں وہ اس نیم کے درخت کے نیچے گئے جس کے سائے تلے مہاتما گاندھی نے اپنی تاریخی تحریک کا آغاز کیا تھا۔ وہاں پنچایت دفتر کے باہر ایک عوامی اجتماع منعقد ہوا۔ تاہم جیسے ہی تشار گاندھی نے تقریر شروع کی، ماحول کشیدہ ہو گیا۔ گاؤں کے مکھیا (سربراہ) وِنے ساہانے ان پر نتیش کمار اور بی جے پی-جے ڈی یو حکومت کے خلاف بولنے کا الزام لگاتے ہوئے مطالبہ کیا کہ انھیں فوراً وہاں سے نکالا جائے۔ انھوں نے تشار گاندھی کو ’’کانگریس کا غلام‘‘ بھی قرار دیا۔
بات مزید بگڑنے سے پہلے تشار گاندھی خود ہی پروگرام سے جانے لگے، تاہم جاتے جاتے انھوں نے کہا کہ چمپارن میں جمہوریت کا ’’قتل‘‘ کیا گیا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ ’’ جب انگریزوں کا راج تھا، تب بھی گاندھی جی کو روکا گیا۔ آج ہمیں بھی اسی طرح روکا گیا۔ لیکن میں کسی سے نہیں ڈرتا۔‘‘ دریں اثنا تشار گاندھی نے گاؤں کے مکھیا کو ’’گوڈسے کا وارث‘‘ بھی قرار دیا۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

