اس سال کشمیر میں شدید گرمی پڑ رہی ہے۔ وادی نے گزشتہ پانچ دہائیوں میں اپنا گرم ترین جون کے مہینے کاتجربہ کیا ہے۔ اوسط درجہ حرارت 32 سے 33 ڈگری سیلسیس کے درمیان تھا۔ یہ معمول سے تقریباً تین ڈگری زیادہ ہے۔ یہی نہیں جولائی کے مہینے میں بھی گرمی بڑھ رہی ہے۔ 5 جولائی کو سری نگر میں درجہ حرارت 37.4 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا تھا۔ یہ گزشتہ سات دہائیوں میں سب سے زیادہ تھا۔ رپورٹ کے مطابق اس سال سری نگر کے اویس کو وہ کام کرنا ہے جو اس نے پچھلے پانچ سالوں میں کبھی نہیں کیا تھا۔چونکہ اس کے اسٹاک میں موجود تمام ایئر کنڈیشنر ختم ہو چکے ہیں اور اسے آرڈر کرنا ہے۔ احمد نے کہاکہ میں ایک سال میں 100-150 اے سی فروخت کرتا تھا۔ لیکن جولائی کے پہلے تین دنوں میں ہی میں نے 150 اے سی فروخت کیے ہیں۔ مجھے گاہکوں کی طرف سے مزید کالیں آ رہی ہیں، لیکن میرا اسٹاک پہلے ہی ختم ہو چکا ہے۔ نئے اسٹاک کے لیے مجھے پندرہ دنوں کا انتظار کرنا پڑے گا۔
بتادیں کہ کشمیر میں بڑھتی گرمی کا نتیجہ ہے کہ اے سی اور کولروں کی فروخت میں بہت تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ اب ڈیلرز کا کہنا ہے کہ مارکیٹ میں اے سی، کولرکی قلت ہے۔ احمد نے کہا، عام طور پر یہاں لوگ سردیوں میں گرمی کیلئے گرم اے سی خریدتے ہیں،اور بہت کم گھر گرمیوں میں اے سی خریدتے ہیں۔ عموماً یہ دفاتر میں خریدے جاتے ہیں۔ لیکن اس بار گھروں میں اس کی بہت زیادہ مانگ ہے۔
شہری علاقوں میں کولروں کی مانگ میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ چونکہ یہاں درختوں کا احاطہ کم ہے۔ کشمیر کے سوپور میں گھریلو سامان فروخت کرنے والی ایک دکان کے مالک بشیر احمد کے مطابق، مانگ دگنی سے بھی زیادہ ہو گئی ہے۔ انہوں نے کہاکہ جہاں پہلے ایک ماہ میں 10 کولر فروخت کرتا تھا، اس بار 30 کولر فروخت کیے ہیں۔محمد دانش نے کہاکہ پانچ سال پہلے اگر آپ مجھے بتاتے کہ ہمیں گرمیوں میں اے سی کی ضرورت ہے تو میں اس پر یقین نہ کرتا۔ لیکن اب گرمی ناقابل برداشت ہوتی جا رہی ہے اور اس کے مزید خراب ہونے کا خدشہ ہے۔ اسی لئے اب جنت ارضی میں بھی گرمی کا ستم بڑھتا چلا جارہا ہےاور اے سی ،کولر کے مطالبات میں کافی زیادہ اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
