Bharat Express DD Free Dish

Gyanvapi Mosque Wazukhana ASI Survey Case: گیان واپی مسجد کے وضوخانہ کے اے ایس آئی سروے کا مطالبہ، الہ آباد ہائی کورٹ میں آج سماعت

گیان واپی مسجد کیس کی آج الہ آباد ہائی کورٹ میں سماعت ہوگی۔ شرنگارگوری کیس کی اہم درخواست گزارراکھی سنگھ کی جانب سے عدالت میں سول نظرثانی کی درخواست دائرکی گئی ہے۔ اس عرضی میں آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا (اے ایس آئی) سے گیان واپی کمپلیکس میں واقع وضوخانہ کا سروے کرانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

وارانسی کی گیان واپی مسجد کیس کی آج الہ آباد ہائی کورٹ میں سماعت ہوگی۔ یہ سماعت وضوخانہ کے اے ایس آئی سروے سے متعلق عرضی پرہوگی۔ گیان واپی مسجد کے احاطے میں وضوخانہ کے اندرشیولنگ سے ملتا جلتا ڈھانچہ ہونے کے الزام کے بعد تنازعہ بڑھ گیا۔ جس کے بعد سپریم کورٹ نے وضوخانے کوسیل کردیا۔ ہندوفریق کی جانب سے الزام لگایا گیا تھا کہ 2022 میں مسجد کے احاطے میں شیولنگ ملا تھا، دوسری جانب مسلم فریق نے دعویٰ کیا کہ یہ چشمہ (فوارہ) ہے۔

شرنگار گوری کیس کی کلیدی درخواست گزارراکھی سنگھ کی جانب سے عدالت میں سول نظرثانی کی درخواست دائرکی گئی ہے۔ اس عرضی میں آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا (اے ایس آئی) سے گیان واپی کے احاطے میں واقع وضوخانہ کا سروے کرانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ عرضی میں کہا گیا ہے کہ جس طرح گیان واپی احاطے کے دیگرحصوں کا سروے کیا گیا تھا، اسی طرح سیل شدہ وضوخانہ کا بھی سروے کیا جانا چاہئے، تاکہ وہاں کی سچائی سامنے آسکے۔ راکھی سنگھ نے وارانسی سول کورٹ کے 21 اکتوبر 2023 کے فیصلے کوالہ آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کیا ہے، جس نے وضوخانہ علاقے کے سروے کے مطالبے کومسترد کردیا تھا۔ ہندوفریق اسے شیولنگ مانتا ہے جبکہ مسلم فریق کا دعویٰ ہے کہ یہ صرف ایک چشمہ ہے۔

گیان واپی کمپلیکس کا اے ایس آئی نے 2023 میں کیا تھا سروے

جسٹس روہت رنجن اگروال کی بنچ شرنگارگوری پوجا کیس میں مدعی راکھی سنگھ کی جانب سے کیس کی سماعت کررہی ہے۔ آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا (اے ایس آئی) نے 24 جولائی سے 2 نومبر2023 تک گیان واپی کمپلیکس کا سائنسی سروے کیا۔ تاہم یہ سروے اس جگہ کے آس پاس نہیں کیا گیا، جہاں شیولنگ جیسی شکل موجود ہے اورجہاں وضوخانہ واقع ہے۔ اس کے ساتھ ہی، مندرکی جانب سے دلیل دی گئی ہے کہ گیان واپی کمپلیکس کے مذہبی کردارکا تعین کرنے کے لئے وضوخانہ، وہ جگہ جہاں شیولنگ واقع ہے، کا سروے ضروری ہے۔

وارانسی میں گیان واپی مسجد کے قریب کاشی وشوناتھ مندرواقع ہے۔ یہ جگہ کافی عرصے سے تنازعات کا مرکزرہی ہے۔ ہندو فریق کی طرف سے دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ 1669 میں مغل حکمراں اورنگزیب نے پرانے کاشی وشوناتھ مندرکومنہدم کرکے اس کی جگہ یہ مسجد تعمیرکی۔حالانکہ اس سے متعلق کوئی تاریخی ثبوت نہیں ملتا ہے۔ مسلم فریق کا دعویٰ ہے کہ مندر-مسجد دونوں ایک دوسرے کے ساتھ ہیں اوردونوں مذاہب کے لوگ اپنی اپنی مرضی کے مطابق عبادت کرتے ہیں۔ حالانکہ ملک میں پلیسیزآف ورشپ ایکٹ 1991 موجود ہے، لیکن پھرگزشتہ کچھ سالوں میں سیاست کی وجہ سے اس کو ہوا دینے کی مسلسل کوشش کی جاتی رہی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو-



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read