مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے منگل کو نارتھ بلاک میں واقع وزارت داخلہ کے دفتر میں سیلاب کے انتظام سے متعلق ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ کی صدارت کی۔ یہ میٹنگ آئندہ مانسون سیزن میں ممکنہ سیلاب کے چیلنجز سے نمٹنے اور ملکی سطح پر اس کی تیاریوں کا جائزہ لینے کے مقصد سے بلایا گیا تھا۔
اس میٹنگ میں ہوم سکریٹری، نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے)، نیشنل ڈیزاسٹر ریسپانس فورس (این ڈی آر ایف)، ہندوستانی محکمہ موسمیات (آئی ایم ڈی)، سینٹرل واٹر کمیشن (سی ڈبلیو سی) اور دیگر متعلقہ ایجنسیوں کے سینئر افسران بھی موجود تھے۔ وزیر داخلہ امت شاہ نے حکام کو ہدایت دی کہ وہ ممکنہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں پیشگی الرٹ جاری کریں اور ریاستی حکومتوں کے ساتھ تال میل بناتے ہوئے راحت اور بچاؤ کاموں کے لیے ایک منصوبہ تیار رکھیں۔
عوام کی جان و مال کی حفاظت ہے حکومت کی ترجیح: امت شاہ
انھوں نے مزید کہا کہ مرکزی حکومت کی ترجیح عوام کی جان و مال کی حفاظت ہے، اس لیے سیلاب جیسی آفات سے نمٹنے کے لیے ہر سطح پر تیاری اور چوکسی ضروری ہے۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ سیلاب کی پیشگی وارننگ کے سسٹم کو مزید درست بنایا جائے گا۔ اس کے لیے آئی ایم ڈی اور سی ڈبلیو سی کے رپورٹنگ سسٹم کو ریئل ٹائم ڈیٹا سے جوڑ کر عام شہریوں کو بروقت معلومات فراہم کرنے کا انتظام کیا جائے گا۔ نیز این ڈی آر ایف اور ایس ڈی آر ایف کی ٹیمیں حساس علاقوں میں پہلے سے تعینات رہیں گی تاکہ ضرورت پڑنے پر فوری امدادی کام شروع کیا جاسکے۔
وزیر داخلہ امت شاہ نے یہ بھی کہا کہ امدادی کاموں کے لیے ریاستوں کو ایڈوانس فنڈ جاری کرنے پر غور کیا جا رہا ہے تاکہ بحران کے وقت وسائل کی کمی نہ ہو۔ اس کے علاوہ تمام پرانے اور کمزور ڈیموں اور آبی ذخائر کا معائنہ کرنے اور ان کی بروقت مرمت کرنے کی بھی ہدایات دی گئی ہے۔ واضح رہے کہ ملک کے کئی حصوں میں حال ہی میں شدید بارش کی وارننگ جاری کی گئی ہیں۔ ایسے میں وزارت داخلہ کی یہ میٹنگ نہایت اہم ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


