آسام کے وزیرِ اعلیٰ ہیمنتا بسوا سرما۔ (فائل فوٹو)
آسام کے وزیر اعلیٰ ہیمنتا بسوا سرما نے اتوار کو کہا کہ عیدالاضحیٰ کے دوران ریاست میں مویشیوں کو غیر قانونی طور پر ذبح کرنے کے سلسلے میں 16 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ سرما نے کہا کہ آسام کے متعدد مقامات سے مویشیوں کے گوشت کے ٹکڑوں کی بازیابی کی اطلاع ملی ہے اور وادی بارک کے دو اضلاع- گمراہ، سلچر اور لکھی پور کاچھر میں اور کریم گنج کے بدر پور اور بنگا میں پانچ جگہیں ملی ہیں جہاں غیر قانونی ذبیحہ ہو رہا تھا۔
قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف ہوگی سخت کارروائی: ہیمنتا بسوا سرما
سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر پوسٹ کرتے ہوئے آسام کے وزیر اعلیٰ ہیمنتا بسوا سرما نے کہا کہ ’’حالاں کہ ہمارا آئین مذہبی آزادی کے حق کی ضمانت دیتا ہے، لیکن وہ ساتھ ہی قانون کی حکمرانی اور امن عامہ کو بھی ضروری گردانتا ہے۔ اس عید الاضحیٰ پر آسام کے متعدد مقامات سے مویشیوں کے غیر قانونی ذبیحہ اور مویشیوں کے ٹکڑوں کی بازیابی کے پریشان کن واقعات رپورٹ ہوئے۔‘‘
🚨 ALERT: ILLEGAL CATTLE SLAUGHTER DURING EID-UL-ZUHA
While our Constitution guarantees the right to religious freedom, it equally upholds the rule of law and public order. This Eid-ul-Zuha disturbing incidents of illegal cattle slaughter and recovery of cattle parts were…
— Himanta Biswa Sarma (@himantabiswa) June 8, 2025
سی ایم سرما نے مزید کہا کہ پانچ الگ الگ واقعات میں مویشیوں کے گوشت کے ٹکڑے گوہاٹی، دھوبری، ہوجائی اور سری بھومی اضلاع میں کاٹن یونیورسٹی کے قریب سے ملے ہیں۔ انھوں نے کہا ’’ہم فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے تحفظ کے لیے پرعزم ہیں، لیکن لاقانونیت یا ظلم کی قیمت پر نہیں۔واضح رہے کہ مذہب یا پس منظر سے قطع نظر تمام خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔‘‘
ریاست میں گائے کا ذبیحہ ممنوع نہیں، لیکن۔۔۔
واضح رہے کہ ریاست میں گائے کے گوشت کا استعمال غیر قانونی نہیں ہے، لیکن آسام کیٹل پریزرویشن ایکٹ 2021، ان علاقوں میں جہاں ہندو، جین اور سکھ اکثریت میں ہیں اور مندر یا سترا (وشنوائی خانقاہ) کے پانچ کلومیٹر کے دائرے میں موجود علاقوں میں گائے کے ذبیحہ اور فروخت پر پابندی لگاتا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

