بلوچستان کے اہم شہر سراب پر بی ایل اے نے قبضہ کا دعویٰ کیا ہے۔
Balochistan Liberation Army: بلوچ لبریشن آرمی نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے بلوچستان کے اہم علاقوں پرقبضہ کرلیا ہے۔ بلوچ جنگجووں نے جمعہ (30 مئی، 2025) کو بلوچستان صوبہ کے سراب شہر پرقبضہ کرلیا۔ میڈیا میں آئی خبرکے مطابق تصاویراورویڈیوسے تصدیق ہوتی ہے کہ بلوچ لبریشن آرمی کے جنگجووں نے سراب شہرواقع پولیس تھانے میں توڑپھوڑکی اورپھرآگ لگا دی۔
‘سراب شہر پر بی ایل اے کا قبضہ’
بی ایل اے نے حملے اورقبضے کی ذمہ داری لی اوربیان جاری کرکے کہا ہے کہ بی ایل اے کے فریڈم فائٹرز(مجاہدین آزادی) نے سراب شہرپرپورا کنٹرول کرلیا ہے۔ انہوں نے کہا، “بی ایل اے نے بینک، لیوی اسٹیشن اور پولیس اسٹیشن سمیت اہم سرکاری اداروں پرقبضہ کرلیا ہے۔ بی ایل اے کے مطابق، مین کوئٹہ-کراچی اورسراب-گدرشاہراہوں پربھی بلوچ لبریشن آرمی نے قبضہ کرلیا ہے اوران مقامات پرگشت جاری ہے۔”
پاکستانی حکومت نے نہیں دیا ردعمل
اس حادثہ سے متعلق ابھی تک پاکستانی فوج یا حکومت کی طرف سے بھی کوئی باضابطہ ردعمل نہیں آیا ہے۔ حالانکہ بی ایل اے نے جس سراب شہرپرقبضہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے، اسے سٹریٹجک لحاظ سے اہم سمجھا جاتا ہے۔ یہ شہرصوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے صرف 150 کلومیٹرکے فاصلے پرواقع ہے۔ بلوچ جنگجووں کے ان دعووں کے بعد پاکستان کی سیکورٹی اورخفیہ دونوں ایجنسیوں پرسوال کھڑے ہونے لگے ہیں۔ سراب شہرکی بات کریں تویہ شہرپاکستان کے بلوچستان صوبہ کے کالات ڈویژن میں واقع ہے۔ 2023 تک کی دستیاب جانکاری کے مطابق، سراب شہرکی تخمینہ آبادی تقریباً 35,000 سے 45,000 ہے۔
بی ایل اے نے اسی ماہ کوئٹہ-کراچی ہائی وے کو بند کیا تھا
بی ایل اے نے اس ماہ کے شروعات میں کوئٹہ-کراچی ہائی وے کوبند کردیا اورگاڑیوں کوروک کرتلاشی لی تھی۔ بی ایل اے کے اراکین نے کلات کے مونگوچوربازار میں گھس کرکئی سرکاری عمارتوں میں توڑپھوڑ کی اوراسے آگ کے حوالے کردیا تھا۔ ان میں نیشنل ڈاٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی، عدالتی احاطے اور نیشنل بینک آف پاکستان جیسی عمارتیں شامل تھیں۔ اس دوران بی ایل اے کے جنگجووں نے ایک پولیس گاڑی پربھی حملہ کیا، جس میں جیل سے قیدیوں کو کوئٹہ لایا جا رہا تھا۔ انہوں نے کم ازکم 10 قیدیوں کو چھڑایا اورپانچ پولیس اہلکاروں کو یرغمال بنالیا تھا۔ یہ پولیس گاڑی گدانی جیل سے قیدیوں کو کوئٹہ اورماچ کے سینٹرل جیل میں بھیجنے کے لئے لایا جا رہا تھا۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


