جامعہ اسلامیہ سنابل میں تقسیم اسناد تقریب کا اہتمام کیا گیا۔
نئی دہلی: جامعہ اسلامیہ سنابل، نئی دہلی میں گزشتہ تعلیمی سال 25-2024 کے 38ویں بیچ کے 61 فارغین فضلاء کے اعزازوتکریم میں ایک مہتم بالشان پروگرام کا انعقاد ہوا، جس کی صدرات ابوالکلام آزاد اسلامک اویکننگ سنٹر، نئی دہلی کے صدر مولانا محمدرحمانی سنابلی، مدنی نے کی۔ جبکہ بطورمہمان خصو صی صوبائی جمعیت اہل حدیث ممبئی کے امیرمولانا عبدالسلام سلفی نے شرکت کی۔ اس موقع پربرکت اللہ نعمت اللہ کی تلاوت قرآن کریم سے پروگرام کا آغازہوا۔ پھر فارغین فضلاء میں سے تین فارغین نے اپنے تاثراتی کلمات اردو، عربی اور انگریزی زبان میں پیش کئے۔ پھرفضلاء کوسند فضیلت اورشیلڈ سے نوازا گیا۔ بعدہ سنٹرکے جوائنٹ سکریٹری اسماعیل رحمانی کے ہاتھوں مہمان خصوصی کو مومنٹوپیش کیا گیا۔
جامعہ سنابل، سلفیان عالم کے دلوں کی دھڑکن: مولانا عبدالسلام
مولانا عبدالسلام سلفی نے کہا کہ 61 عزیزفضلاء کے اعزازمیں منعقد اس پروگرام میں شرکت میرے لیے سعادت مندی کی بات ہے۔ یہ ادارہ سلفیان ہند نہیں بلکہ سلفیان عالم کے دلوں کی دھڑکن ہے ،یہ معروف اورممتاز ادارہ ہے، ہم سب اس ادارہ کی ترقی اور اس کے ذمہ داروں کی کوششوں، صلاحیتوں اوران کی عمرمیں برکت کی دعا کریں تاکہ یہ ادارہ جس منہج اوربنیاد پرقائم کیا گیا ہے، اس میں مزید استحکام پیدا ہو اور یہ ترقی کے منازل طے کرتا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ ادارہ اپنی تعلیمی بنیادوں اوردعوتی اصولوں کی وجہ سے ملک میں منہج سلف کا سب سے بڑا ترجمان بنا ہوا ہے۔ اس کی کوششیں ایسی ہیں کہ بلا مبالغہ یہ کہاجاسکتا ہے کہ سلفی دعوت کی نشرواشاعت اورمنہج سلف کی پاسبانی میں صف اول کا مقام رکھتا ہے۔ فارغین فضلاء کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ آپ جہاں بھی رہیں اپنے رنگ میں رہیں، جس میدان میں رہیں اپنی پہچان اوراپنے شعارکے ساتھ رہیں، سلفیت آپ کی پہچان ہے اوریہ وہ رنگ ہے جو تمام رنگوں پربھاری ہے۔ علاقائی رنگ آپ پرنہ آئے۔ جولوگ اپنی پہچان کھودیتے ہیں وہ گم ہوجاتے ہیں اوران کا معاشرہ میں کوئی مقام نہیں رہتا ہے بلکہ ان کاعقیدہ ومنہج خطرہ میں رہتا ہے اورایک دن وہ اس سے محروم کردیئے جاتے ہیں۔ اہل حدیث مدارس وجامعات کے پلیٹ فارم سے سنت اورسلفی منہج کی جو آبیاری ہورہی ہے، ان اداروں سے منسلک علماء ومدرسین جوسلفی منہج کی ترویج واشاعت کے لیے کام کرتے ہیں ہماری ذات سے اگران پرکسی قسم کی کوئی چوٹ پہنچتی ہے توگویا ہم اپنے شعارپرچوٹ کررہے ہوتے ہیں اوراگران پرچوٹ کرنے والے جامعات کے فارغین ہیں تومجھے ڈراس بات کا لگتا ہے کہ عقیدومنہج اورسنت کی راہ میں ان کے کمزورہونے کی وجہ سے کہیں سزا کے طور پر تواللہ نے انہیں اس راہ پرنہیں ڈال دیاہے۔ اخیرمیں مولانا عبدالسلام سلفی نے ادارہ کے بانی علامہ عبدالحمید رحمانی رحمہ اللہ کی خدمات کوخراج تحسین پیش کیا اورطلبا کونصیحت دی کہ ان کے مقالات ضرورپڑھتے رہا کریں، ان کی زندگی میں ہمارے لئے رہنما اصول وخطوط ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جاہلیت سے بچنا ضروری ہے، حق اورسلفیت بلند ہے، سلف کا طریقہ سرآنکھوں پررہنا چاہیے اور اہل بدعت سے متعلق اپنا موقف واضح ہونا چاہئے اور ہرطرح کی باطل عصبیت سے خود کوبلند رکھنا ضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ اس ادارہ کی جو ثمرآورکوششیں ہیں ان میں مزید برکت دے اوراس کے فیض کو مزید عام کرے۔
اللہ کی رضا کے لئے آگے آکر پورے استحکام سے کام کرنے کی نصیحت
مولانا محمدرحمانی سنابلی، مدنی نے صدارتی خطاب پیش کرتے ہوئے اپنے خطاب کے آغازمیں کہا کہ آج جماعت اہل حدیث جس کسم پرسی کے عالم میں وطن عزیزمیں زندگی گزار رہی ہے، رب کائنات کے فضل وکرم سے اس میں ہمارے مہمان خصوصی مولانا عبدالسلام سلفی منہج سلف کا ایک چراغ اپنے دعاۃ ورفقاء کی کوششوں اورعلمی کاوشوں کے ذریعہ جلانے کی کوشش کررہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کے قافلہ کو مزید استحکام عطا فرمائے۔ منہج سلف کی ترویج واشاعت ایک اہم ذمہ داری ہے، 61 نونہال آج اس اہم منہج سے جڑے ہیں، جوہندوستان کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھتے ہیں، ان کی ذمہ داری ہے کہ اپنی ساری نسبتیں ایک طرف رکھ کرمنہج سلف کی آبیاری اوراس کی نشر واشاعت کے لئے کمربستہ ہوجائیں اوریہ خیال دامن گیررہے کہ رب کائنات نے اس اہم کام کے لیے ان کا انتخاب کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سلفیت اوراہلحدیثیت کی جونسبت ہمیں حاصل ہے، وہ تمام نسبتوں پربھاری ہے، یہ ہمارے لئے شرف کی بات ہے۔ یہ نسبت ہم نے کسی تعصب میں آکرنہیں اپنائی ہے بلکہ یہ ہمارا صفتی نام ہے، قرآن وسنت کی ترجمانی کا نام ہے۔ اس کومنتخب کرنے والے خود صحابۂ کرام، تابعین عظام اوراس امت کے علمائے سلف ہیں۔ لہٰذا اس نسبت کی لاج اورپاس رکھنا ہمارے فارغین کی ذمہ داری ہے۔ ایسا نہ ہوکہ کہیں بدعت سراٹھائے اورآپ کمزورپڑجائیں، ایسا نہ ہوکہ دین کے نام پرکوئی فتنہ رونما ہو اورآپ کمزورپڑجائیں۔ آپ کی ذمہ داری ہے کہ محض رب کی رضاکے لیے آگے آئیں اور پورے استحکام کے ساتھ بدعات وفتنوں کا قلع قمع کریں۔ آپ کے اندر منہجی غیرت کا ہونا بہت ضروی ہے۔نیز موجودہ زمانہ میں خارجیت کی جتنی شکلیں نظر آئیں ان کو پہچانیں اور ان کا قلع قمع کرنے کی پوری کوشش کریں۔ فتنوں سے نبردآزما ہونے کے لیے سنت پرتمسک اختیارکریں۔ اس پر کسی اندازکا سمجھوتہ نہ کریں، یہ وہ سفینہ ہے، جس کے نتیجہ میں اسلاف نے کامیابی حاصل کی تھی۔
صبروتحمل اور علم ویقین کی صفت سے خود کو متصف کرنے کی تلقین
مولانا محمد رحمانی مدنی نے سورۂ سجدہ آیت نمبر24 کی روشنی میں بتایا کہ صبر وتحمل اورعلم ویقین کی صفت سے خود کومتصف کریں۔ اورسورۂ حجرات کی روشنی میں خود کو ڈھالنا از حد ضروری ہے اوریہ ایک بہت بڑا چیلنج بھی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وطن عزیزکے قوانین کا احترام کریں، ان علماء سے خود کوجوڑیں جوقرآن وسنت کی روشنی میں رہنمائی کا کام کرتے ہیں۔ اس ملک کے باعزت شہری بنیں۔ اگرکوئی رکاوٹ آتی ہے توآئین ودستورکے مطابق، اس کا حل تلاش کریں، ملک سے کرپشن ختم ہواورامن وسلامتی کا بول بالاہو اس کی کوشش میں رہیں۔اپنے والدین ، اساتذہ کے شکر گزار بنیں، جماعت کے علماء کو ہدف طعن نہ بنائیں، سب کا احترام کریں، صلہ رحمی کو اپنائیں۔ علامہ ربیع بن ہادی مدخلی حفظہ اللہ فرماتے ہیں: ’’لوگوں کوحق کے ذریعہ پہچاناجاتا ہے نہ کہ حق کولوگوں کے ذریعہ۔‘‘ آپ ایک امتیازی ضابطہ بنائیں، جواصولی اور منہجی بنیادوں پر چلنے والے علماء ہیں ان سے جڑیں اوران کا سہارا بنیں، ان کا ساتھ دیں۔ علامہ البانی رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ’’کوئی آدمی کبھی عقیدہ میں توسلفی ہوتا ہے، لیکن وہ اپنے سلوک اورتربیت میں سلفی نہیں ہوتا۔‘‘ لہٰذا آپ سلوک وتربیت میں بھی سلفیت اختیارکریں۔ علامہ البانی رحمہ اللہ سلسلہ صحیحہ میں ایک حدیث کی شرح فرماتے ہیں: قبل تقارن معیشتک بمعیشۃ الأغنیاء قارن عبادتک بعبادہ الأتقیا. ’’مال داروں کی معیشت سے اپنی معیشت کا مقارنہ کرنے سے پہلے اپنی عبادت کا مقارنہ اتقیاء وپرہیز گاروں کی عبادت سے کرلیا کرو۔‘‘ انہوں نے فارغین فضلاء کونصیحت کرتے ہوئے کہا کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ماأنا في الدُّنیا إلا کراکب استظلَّ تحت شجرۃ ثمّ راح وترکھا.’’میری مثال اس دنیا میں اس سوارکی طرح ہے جو دوران سفرکسی درخت کے سایہ میں کچھ دیرآرام کرتا ہے، پھراگلی منزل کی طرف چل پڑتا ہے۔‘‘ (ترمذی) لہٰذا عزیزو! اس دنیا میں جو میسراوقات ہیں ان کی قدرکریں، آخرت میں ہرایک چیزکا جواب دینا ہے۔ یہ دنیا مختلف فتنوں کی آماجگاہ بنی ہوئی ہے، علماء بیزاری کا فتنہ، علاقائیت کا فتنہ، منہجی غیرت کے فقدان کا فتنہ، تعصبات، بدعات کا فتنہ۔ خوش اسلوبی کے ساتھ آپ کوان فتنوں کا سامنا کرنا ہے، اس کے لیے خودکوتیارکریں۔ کسی داناعالم نے کہا ہے: لاتتغیرلإرضاء الناس ولا تتلون لنیل إعجابھم ولا تتبدل بسبب فشل ولا تتکبربسبب نجاح. ’’لوگوں کی رضامندی کے لیے خود بدلا نہ کریں اورلوگوں کی واہ واہی پانے کے لیے اپنے رنگ کوتبدیل نہ کیا کریں اورناکامی کے سبب اپنے ارادوں کو نہ بدلیں اورجب کامیابی سے ہمکنارہوں توتکبراورگھمنڈ میں نہ پڑیں‘‘۔ صدراجلاس نے انھیں ناصحانہ کلمات پراپنی گفتگوختم کی۔
واضح رہے کہ اس پروگرام میں مرکزوجامعہ کے ذمہ داران اوراساتذۂ کرام کی شرکت کے ساتھ دہلی وبیرون دہلی کی بعض علمی، سماجی شخصیات اوراخبارات کے ایڈیٹرحضرات کی شرکت رہی ہے۔ پروگرام کی نظامت کا فریضہ مولانا وسیم احمد سنابلی، مدنی نے انجام دیا اور اخیرمیں عمید جامعہ مولانا شکیل احمد سنابلی نے اجلاس میں شریک سبھی حضرات کی خدمت میں ہدیۂ تشکرپیش کیا۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

