وزیر اعظم نریندر مودی
نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی نے اتوار کے روز ریڈیو پروگرام ’من کی بات‘ کے 122ویں ایپیسوڈ کے ذریعے قوم سے خطاب کیا۔ ہر بار کی طرح پی ایم مودی نے حیرت انگیز اور متاثر کن کہانیاں سنائیں۔ پی ایم مودی نے مہاراشٹر کے گڑھ چرولی ضلع کے ’کاٹیجھری‘ گاؤں کی کہانی ہم وطنوں کے ساتھ شیئر کی۔ یہ بھارت کا وہ گاؤں ہے جہاں آزادی کے 77 سال بعد ایک سرکاری بس پہنچی۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اتنے سالوں بعد بس پہنچنے کی کیا وجہ رہی؟
’’ماؤنواز تشدد سے متاثر تھا گاؤں‘‘
پی ایم مودی نے کہا، ’’میں آپ کو ایک ایسے گاؤں کے بارے میں بتانا چاہتا ہوں جہاں پہلی بار بس پہنچی، جب گاؤں پہلی بار بس پہنچی تو لوگوں نے ڈھول بجا کر اس کا استقبال کیا۔ بس کو دیکھ کر لوگوں کا خوشی کا ٹھکانہ نہیں تھا۔ گاؤں میں پکی سڑک تھی، لوگوں کو ضرورت تھی، لیکن پہلے کبھی یہاں بس نہیں چل پائی تھی۔ کیونکہ یہ گاؤں ماؤنواز تشدد سے متاثر تھا۔‘‘
یہ بھی پڑھیں: پی ایم مودی نے ’آپریشن سندور‘ کو ’ووکل فار لوکل‘ سے جوڑا، کہا- ملک میں بنی چیزوں کو دیں ترجیح
’’تیزی سے معمول پر آ رہے ہیں حالات‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’یہ جگہ ہے مہاراشٹر کے گڑھچرولی ضلع میں، اور اس گاؤں کا نام ہے کاٹیجھری۔ کاٹیجھری میں آئی اس تبدیلی کو پورے آس پاس کے علاقے میں محسوس کیا جا رہا ہے۔ اب یہاں کے حالات تیزی سے معمول پر آ رہے ہیں۔ ماؤنواز کے خلاف اجتماعی لڑائی سے اب ایسے علاقوں تک بھی بنیادی سہولیات پہنچنا شروع ہو گئی ہیں۔ گاؤں کے لوگوں کا کہنا ہے کہ بس کے آنے سے ان کی زندگی بہت آسان ہو جائے گی۔‘‘
گاؤں میں 20 مئی کو شروع ہوئی بس سروس
آپ کو بتاتے چلیں کہ مرکزی حکومت نے اس علاقے میں ماؤ ازم پر قابو پانے کے لیے کئی اقدامات کیے ہیں۔ اس گاؤں میں 20 مئی کو بس سروس شروع ہوئی جس سے گاؤں والوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ مرکزی حکومت نے ماؤنواز سے متاثرہ علاقوں میں خاص طور پر چھتیس گڑھ، جھارکھنڈ، اڈیشہ، بہار اور مہاراشٹرا جیسی ریاستوں میں سیکورٹی فورسز کی تعیناتی میں اضافہ کیا ہے۔ سنٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف)، چھتیس گڑھ پولیس اور دیگر خصوصی دستوں نے مشترکہ آپریشن کیا ہے۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

