Bharat Express DD Free Dish

SC grants interim bail to Professor Ali Khan: پروفیسرعلی خان کو سپریم کورٹ سے بڑی راحت، عبوری ضمانت کا حکم، جانچ کے لئے ایس آئی ٹی کی تشکیل

اشوکا یونیورسٹی کے پروفیسر علی خان محمودآباد کی گرفتاری کے خلاف داخل ضمانت عرضی پر سپریم کورٹ نے سماعت کے دوران پوچھا کہ وہ بیان کہاں پرہے، جس میں خاتون افسران کی توہین کی گئی؟

پروفیسر علی خان محمود آباد معاملے میں سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی۔

نئی دہلی: اشوکا یونیورسٹی کے پروفیسرعلی خان محمودآباد کوسپریم کورٹ سے عبوری ضمانت مل گئی ہے۔ پروفیسرعلی خان کی طرف سے گرفتاری کے خلاف داخل عرضی پرعدالت نے انہیں عبوری ضمانت دے دی ہے۔ ساتھ ہی سپریم کورٹ نے ہریانہ حکومت کونوٹس بھی جاری کیا۔ اس کے علاوہ بیان کی جانچ کے لئے ایس آئی ٹی ٹیم کی تشکیل کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔

سپریم کورٹ نے عرضی پراپنا فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ ہم عرضی گزارکوسی جے ایم سونی پت کے اطمینان کے لئے ضمانتی بانڈ پیش کرنے کی شرط پرعبوری ضمانت پررہا کرنے کی ہدایت دیتے ہیں۔ دونوں ایف آئی آرکے لیے ضمانتی بانڈ کا صرف ایک سیٹ ہوگا۔ اس کے علاوہ ہم یہ بھی ہدایت دیتے ہیں کہ اس کیس کے موضوع سے متعلق مسائل پرکوئی مضمون یا آن لائن پوسٹ نہ لکھی جائے اورنہ ہی کوئی تقریرکی جائے۔ ساتھ ہی پروفیسرعلی خان محمودآباد کوہندوستان کے ذریعہ حال ہی میں سامنا کئے گئے بحران پرکوئی تبصرہ کرنے سے روکا جاتا ہے، جوہندوستانی سرزمین پر ایک دہشت گردانہ حملہ تھا یا ہمارے ملک کے ذریعہ دیا گیا ردعمل تھا۔ اس کے علاوہ عرضی گزار کوپاسپورٹ جمع کرنا ہوگا۔

تین رکنی ایس آئی ٹی ٹیم میں ہوایک خاتون افسر

عدالت عظمیٰ نے کہا، ”ہم ہریانہ کے ڈی جی پی کوتین آئی پی ایس افسران کی ایک ایس آئی ٹی ٹیم تشکیل کرنے کا حکم دیتے ہیں، جس کا ہریانہ یا دہلی سے تعلق نہ ہو۔ ایس آئی ٹی ٹیم کی قیادت پولیس سپرنٹنڈنٹ کریں گے جبکہ اراکین میں ایک خاتون افسرہوگی۔ عدالت نے اس کے لئے 24 گھنٹے کا وقت دیتے ہوئے کہا ہے کہ 24 گھنٹے کے اندرایس آئی ٹی کی تشکیل ہونی چاہئے۔

توہین آمیز بیان کہاں ہیں؟ سپریم کورٹ کا سوال

سماعت کے وران جسٹس کانت نے ایڈیشنل سالسٹرجنرل راجو سے کہا، ”آپ کا اعتراض جائزہے، لیکن اب جبکہ عدالت نے بغیرکسی اعتراض کے اسے درج کرلیا ہے تو ہمیں بتائیے مسٹرراجوکہ وہ بیان کہاں ہے، جس میں انہوں نے خاتون افسران کی توہین کی ہے؟ خواتین کمیشن کے ذریعہ درج ایف آئی آرمیں یہ وہ لکھا  ہے، لیکن وکیل کے ذریعہ تیارکی گئی کوئی بات ہمیں دکھائیے کہ انہوں نے خواتین فوجی افسران کی توہین کہاں کی ہےَ اگرایسا ہے تو یہ سنگین ہے۔“ اس پر ایڈیشنل سالسٹرجنرل راجونے کہا کہ مجھے عرضی دیکھنے دیجئے۔ انہوں نے کرنل صوفیہ قریشی پرکچھ تبصرے کئے ہیں۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read