ہندوستان اور پاکستان میں جنگ بندی کے بعد بھی اہم بیٹھکوں کا سلسلہ جاری ہے۔ اسی سلسلے میں وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے منگل کو اعلیٰ فوجی افسران کے ساتھ میٹنگ کرتے ہوئے تازہ سیکورٹی صورت حال کا جائزہ لیا۔ وزیر دفاع کی یہ میٹنگ ہندوستان اور پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل آف ملٹری آپریشنز (DGMOs) کے ہاٹ لائن پر ایک دوسرے سے بات کرنے کے ایک دن بعد ہوئی ہے، جس میں اس بات کو یقینی بنانے کے دو طرفہ عزم پر زور دیا گیا کہ دونوں فریقوں کو ’’ایک بھی گولی نہیں چلانی چاہیے اور نہ ہی کوئی جارحانہ یا دشمنانہ کارروائی شروع کرنی چاہیے۔‘‘
وزیر دفاع کے ساتھ آج کی جائزہ میٹنگ میں چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل انل چوہان، آرمی چیف جنرل اوپیندر دویدی، بحریہ کے سربراہ ایڈمرل دنیش ترپاٹھی، آئی اے ایف کے وائس ایئر چیف ایئر مارشل نرمدیشور تیواری اور دفاعی سکریٹری آر کے سنگھ شریک ہوئے اور انھوں نے تازہ صورت حال پر روشنی ڈالنے کے ساتھ ساتھ اس پر تبادلۂ خیال کیا۔
پیر کی شام پانچ بجے ہوئی تھی ہند-پاک ڈی جی ایم اوز کی بات
تاہم دونوں فوجی حکام کے درمیان اس سمجھوتہ کے چند گھنٹوں بعد ہی جموں اور کشمیر کے سانبا کے قریب مشتبہ ڈرونز کے ساتھ ساتھ جالندھر میں سورانوسی گولہ بارود کے ڈمپ کے آس پاس کے علاقوں میں بھی ڈرونز دیکھے گئے۔ فوج نے اس بارے میں بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’جموں و کشمیر میں سانبا کے قریب مشتبہ ڈرونز کی ایک چھوٹی سی تعداد دیکھی جا رہی ہے۔ ہم انھیں گرا رہے ہیں۔ گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘ دریں اثنا پنجاب کے کئی شہروں بشمول امرتسر اور جالندھر کو پڑوسی ملک سے ہوائی حملوں کے خطرے کے درمیان بلیک آؤٹ کا سامنا کرنا پڑا۔
واضح رہے کہ ہندوستان کے ڈی جی ایم او لیفٹیننٹ جنرل راجیو گھئی اور پاکستان کے ڈی جی ایم او میجر جنرل کاشف عبداللہ نے پیر کی شام 5 بجے کے قریب بات کی۔ فوج نے کہا کہ دونوں ممالک کے ڈی جی ایم اوز نے اس بات پر اتفاق کیا کہ ’’دونوں فریقوں کو سرحد اور آگے کے علاقوں میں فوجیوں کی کمی کو یقینی بنانے کے لیے فوری اقدامات پر غور کرنا چاہیے‘‘۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔




